ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں آپ کے نیچے ایک چیونٹی آ گئی، جس سے اس کا ہاتھ مجروح ہو گیا۔ آپ تھوڑی دیر کھڑے ہو گئے اورافسوس کرتے رہے۔ حتیٰ کہ چیونٹی سوراخ میں چلی گئی۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ حضورؐ فرما رہے تھے کہ ’’اے علی! تم نے کل کیا کام کیا کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے تجھ پر غضب آلودہ ہیں۔‘‘
آپؓ نے فرمایا کہ ’’کس وجہ سے؟‘‘آنحضرتؐ نے فرمایا۔ ’’تم نے چیونٹی کا پاؤں زخمی کردیا ہے۔ وہ حق تعالیٰ کی یاد میں سے ہے اور جب سے پیدا ہوئی ہے، ذکر الٰہی سے غافل نہیں ہوئی۔ سوائے اس وقت کے جب اس کا پاؤں مجروح ہوا۔‘‘حضرت علی نے عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہؐ! اب میرا حال کیا ہو گا؟‘‘آپؐ نے فرمایا ’’اے علی! اگر وہ چیونٹی تمہارے لیے معافی نہ مانگتی تو کام بہت مشکل تھا۔ لیکن اس نے بارگاہ رب العزت میں عرض کر دیا ہے کہ اے اللہ! تیرے نزدیک عمل کا دارومدار نیت اور ارادہ ہے، لیکن علی کا اس کام میں کوئی قصد اور ارادہ نہیں تھا تو بہتر جانتا ہے۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے اس کی معافی قبول فرمائی ہے۔‘‘
غمگین ہونے کی وجہ
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ آپ بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے اورایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہو۔ ایک شاگرد نے حضرت سے جا کر پوچھا کہ ’’حضرت! آپ کے چہرے پر غم کے آثار نظر آ رہے ہیں، خیریت تو ہے؟‘‘آپ نے فرمایا کہ ’’ہاں، کچھ غم ہے۔‘‘انہوں نے اصرار کیا کہ ’’حضرت! کیا غم ہے؟‘‘اس وقت دارالعلوم دیوبند میں دستار بندی کا جلسہ ہو رہا تھا۔
فرمایا کہ ’’جلسہ میں ایسی مصروفیت ہو گئی کہ آج جب ہم مسجد میں نماز پڑھنے گئے تو ہماری تکبیر اولیٰ چھوٹ گئی۔ امام سے نہیں سن سکے۔‘‘ پھر فرمایا کہ ’’35 سال میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ نماز میں تکبیر اولیٰ چھوٹ گئی۔‘‘اب آپ اندازہ لگائیں، کیونکہ صرف تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا مطلب ہے کہ قرأت سنی، رکوع میں شریک ہوئے، رکعت مل گئی،
اور صحیح قول کے مطابق تکبیر اولیٰ میں بھی شرکت ہوگئی، لیکن اس کے باوجود تکبیر اولیٰ کے چھوٹنے پر اتنے غمگین تھے۔‘‘دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ ہماری جماعتیں نکل جاتی ہیں اور اکثر نمازی حضرت مسبوق ہو کر اپنی نمازیں پوری کرتے ہیں، لیکن اس کا احساس نہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے اندر بے حسی ہے۔ العیاذ باللہ، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت فرما کر اسے دور فرما دے۔ آمین۔



















































