اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھاپ کا انجن کب اور کیسے تیار ہوا؟

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ معمولی مشینوں کی مرمت کرنے والا کوئی شخص اپنے کسی عجیب و غریب کارنامے سے تاریخ کا رُخ بدل دے ، 1764ء میں بمقام گلاسکو (سکاٹ لینڈ) ایک ایسا ہی واقع پیش آیا ۔بھاپ کے انجن کا خیال یا خود انجن کوئی انوکھی چیز نہ تھی ،ایسی مشینیں بن چکی تھیں جو کوئلے کی کانوں سے پانی باہر نکالنے میں کام آتی تھیں اور بھاپ سے چلتی تھیں۔

ایک مرتبہ ایک مشین میں کچھ خرابی پیدا ہو گئی جیمز واٹ (1736- 1819) سے کہا گیا اسے درست کر دے ۔ اس وقت واٹ کی عمر اٹھائیس سال کی تھی اور وہ لندن میں اوزار بنانے کے کام سیکھ چکا تھا ۔واٹ کو مشین درست کرنے میں کوئی مشکل تو پیش نہ آئی ۔ لیکن مشین کو دیکھ کر اُس کے دماغ میں بھاپ کے انجن کا وہ خیال تازہ ہو گیا جو تین سال سے بار بار آ رہا تھا ۔ مشین کا معائنہ غور سے کیا تو واٹ کو اندازہ ہو گیا کہ اس میں بھاپ بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے لہذا اسے کفایت شعاری سے نہیں چلایا جا سکتا۔ وہ مشین میں نئی نئی ترمیمیں سوچتا رہا تاکہ خرچ میں کمی کی صورت نِکل آئے ۔سوچتے سوچتے اس پر حقیقت منکشف ہوئی ہوئی کہ جو انجن اب تک بنائے گئے ہیں ان میں سلنڈر ( ابیلن) کے ذریعے ایک غیر ممکن کام انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے اس سے معلوم ہو گیا کہ جمع شدہ بھاپ کا درجہ حرارت بہ حالت عمل کم ہونا چاہیئے۔البتہ سلنڈر کو اتنا ہی گرم ہونا چاہئیے جتنی اس میں داخل ہونے والی بھاپ گرم ہوتی ہے ۔غرض اس نے ایک نئی چیز تیار کر دی جس کا نام آلئہ تکثیف (کنڈنسر) ہے ۔ اس کے لیے پانی ٹھنڈا ہوتے رہنا کا انتظام کر دیا اور سلنڈر کو بدستور گرم رہنے دیا اس اصول کے مطابق نیا انجن بنایا تواس کی مرضی کے مطابق کام دینے لگا ۔اس میں پہلے انجن سے ایک چوتھائی یا اس بھی کم بھاپ خرچ ہوتی تھی ۔بعدازاں واٹ نے اپنے انجن میں مزید اصلاحیں کیں اور ان تمام اصلاحوں کے پیشِ نظر اسے بھاپ کے انجن کے موجد کا اعزاز دینا غیر مناسب نہ ہوگا ۔

اسی انجن سے آگے چل کر نقل وحمل ، صنعت و حرفت اور بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے کام لیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…