اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سب سے زیادہ نفع بخش تجارت

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

غروب آفتاب کے بعد جوں جوں تاریکی بڑھ رہی تھی، اس کے ساتھ ساتھ چاند بھی آسمان پر بلند ہو رہا تھا۔ نخلستانوں کے درمیان میں گزرنے والی شاہراہ جو مدینے کی طرف جاتی تھی، اب سنسان پڑی ہوئی تھی۔ دور سے سرپٹ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز اس علاقے میں ہلکا ہلکا سا لرزہ پیدا کر رہی تھی۔

کھجور کے درختوں کے درمیان میں سے چھن کر آنے والی چاندنی بار بار گھڑ سوار کے چہرے پر پڑ رہی تھی وہ کوئی ساٹھ سال کی عمر کا مضبوط چاق و چوبند آدمی دکھائی دیتا تھا۔ لمبی مسافت کی تھکن اس کے چہرے پر آویزاں تھی۔ منزل کے قریب ہونے کی وجہ سے سوار نے گھوڑے کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔ رفتہ رفتہ باغات کے درمیان میں اکادکا مکانات اور حویلیاں بھی ابھرنے لگیں۔ حتیٰ کہ وہ شہر میں داخل ہو گیا۔وہ گزرنے والی ہر گلی اور مکان کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ جیسے کسی مکان کو تلاش کر رہا ہو۔ کبھی وہ کسی مکان کے قریب گھوڑے کو روکتا، لیکن پھر آگے چلنے کے لیے اس کی لگام ہلا دیتا، اور چوراہوں میں آدمیوں کی آمد و رفت ابھی جاری تھی۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اسے نہ پہچانتا تھا۔اب وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا اور گھوڑے کی لگام ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک مکان کے سامنے رک گیا، اس نے ذہن پر زور دیا، اس کی یادداشت جاگی اور خوشی اس کے چہرے پر ظاہر ہوئی، وہ زیب لب اپنے آپ سے کہنے لگا۔ ’’یہی میرا گھر ہے، یہی میرا گھر ہے۔‘‘دروازہ کھلا ہوا تھا، اس لیے وہ بلااجازت اس مکان میں داخل ہو گیا۔ بالا خانے پر موجود گھر کے مالک نے نیچے صحن میں گھوڑے کی آہٹ سنی تو اس نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ نیچے ایک مسلح اجنبی کھڑا تھا۔ وہ غضبناک ہو کر نیچے اتر آیا۔

وہ تیس برس کی عمر کا تنومند جوان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے آتے ہی اجنبی کو پکڑ لیا اور سخت لہجے میں کہا ’’اے دشمن خدا! رات کی تاریکی میں تو گھر کے اندر کیوں آیا؟‘‘یہ سن کر اجنبی گھبرا گیا، وہ صرف اتنا ہی کہہ پا رہا تھا ’’دیکھو! میں اسے اپنا گھر سمجھ کر اندر آ گیا اور سچ مچ یہ میرا ہی گھر ہے۔‘‘لیکن اس پر بھی اس نوجوان نے گرج کر کہا۔ ’’میں تجھے دیکھ لوں گا؟‘‘دونوں کے باہم الجھنے سے شور زیادہ بلند ہوا،

چند پڑوسی بھی ادھر آ گئے، انہیں دیکھ کر اجنبی بجائے گھبرانے کے زور زور سے کہنے لگا ’’لوگو! کیا یہ میرا گھر کسی دوسرے کے قبضے میں چلا گیا ہے؟ کیا میری بیوی فوت ہو گئی ہے؟ تم میں سے کوئی بھی مجھے نہیں پہچانتا؟‘‘یہ سن کر پڑوسیوں کے ہجوم میں سے دو بزرگوں نے آگے بڑھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کی تو اس نے کہا ’’کیا تم مجھے بھول گئے ہوں۔ میں فرخ ہوں؟ کیا پڑوسیوں میں کوئی بھی فرخ کو پہچاننے والا نہیں رہا؟

اس فرخ کو جو آج سے تیس سال پہلے اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے گیا تھا؟‘‘اجنبی کی یہ بات سنتے ہی ہر کوئی اپنی جگہ پر دم بخود رہ گیا۔ مجمع پر ایک گہرا سکوت طاری ہو گیا۔ جیسے ہجوم میں موجود ہر شخص یادداشت کے دھندلکے مناظر میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔رحلت نبیؐکے بعد چالیس برس گزر چکے تھے۔ اللہ کے حکم میں رکاوٹ بننے والے حکمرانوں کا عام لوگوں کے دلوں پر خوف اتارنے کے لیے اسلامی فوجیں آ گے ہی آگے بڑھ رہی تھیں۔

انہی لشکروں میں سے ایک لشکر سجستان کو فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا، جس کی قیادت ایک بزرگ صحابی ربیع بن زیاد حارثی رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، ان کے ہمراہ فرخ نامی ان کا غلام بھی تھا۔سجستان پر فتح کا پرچم لہرانے کے بعد ماورائے النہر کے علاقے پر ان کی نگاہیں تھیں، لیکن دریائے سجون کی خونخوار موجیں ان کی راہ میں حائل تھیں۔ تب انہوں نے ازسر نو فوج ترتیب دی اور پھر اللہ کا نام لے کر موجوں کے سینے پر چیرتے ہوئے دریا عبور کرکے دشمن کے روبرو ہو گئے،

جب میدان کارزار گرم ہوا تو ربیع بن زیاد حارثی رضی اللہ عنہ کی جانباز سپاہ نے شجاعت و بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ان کے غلام فرخ نے بھی جنگی مہارت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ سپہ سالار کی نگاہ میں اس کی عظمت دوبالا ہو گئی، مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور دریا عبور کرنے کے بعد چین کی جانب اسلامی فوجوں کے لیے راستہ کھل گیا۔ربیع بن زیادہ حارثی رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام فرخ سے متاثر ہو کر اسے آزاد کردیا اور اپنے حصے کے تمام اموال غنیمت بطور انعام دے کر اس کی عزت افزائی فرمائی۔

اس کے دو سال بعد ربیع حارثی رضی اللہ عنہ اپنے رب سے جا ملے۔ جانباز مجاہد فرخ اموال غنیمت کا ڈھیر لیے مدینہ آ پہنچا تو اس وقت وہ زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اب ایک گھر بنا لینا چاہیے۔ چنانچہ ایک گھر خرید کر اس نے ایک خاتون سے شادی کر لی مگر مجاہدانہ زندگی فرخ کی عادت بن چکی تھی۔ گھرمیں بے کار پڑا رہنا اسے راس نہ آیا۔اس دوران میں خراسان کے محاذ پر اسلامی لشکر کو کمک کی ضرورت پڑی تو حکومت وقت نے جہاد میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

فرخ نے جھٹ فیصلہ کر لیا کہ وہ بھی جہاد کے لیے ضرور جائے گا۔ ان دنوں مجاہدوں کی اہل و عیال کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی تھی اور پورا لشکر صرف اور صرف حکومت اسلامیہ ہی کی سرکردگی میں تیار ہوتا تھا، بیوی بچوں اور گھر بار کو چھوڑنا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ پھر بھی فرخ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنی نئی نویلی دلہن کو تسلی دی ارو اسے ایک تھیلی دیتے ہوئے کہا ’’دیکھو! اس میں تیس ہزار دینار ہیں، یہ حکومت نے مجھے خرچ کے لیے دیے ہیں،

ان کو کسی نفع بخش تجارت میں لگا دینا، ان سے ہی اپنے اخراجات بھی پورے کرنا اور ہونے والے بچے کی پرورش اور تربیت انتظام بھی کرنا۔ یہاں تک کہ میں جہاد سے واپس آ جاؤں یا اللہ میری تمنائے شہادت پوری کردے۔‘‘ جہاد پر روانگی کے چھ ماہ بعد فرخ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا، بچہ اتنا خوبصورت تھا کہ اس کو دیکھ کر ماں شوہر کی جدائی کا سارا غم بھول گئی، ماں نے بچے کا نام ربیعہ رکھا اور اسے لائق اساتذہ کی نگرانی میں دے دیا۔

بہت ہی تھوڑے عرصے میں بچے نے مکمل قرآن حفظ کر لیا اور احادیث کا بھی خاصا ذخیرہ یاد کر لیا۔ ماں جب بھی بچے کی علمی قابلیت میں ترقی دیکھتی تو اس کے اساتذہ اس کے انعام و اکرام میں اضافہ کر دیتے۔ وہ چاہتی تھی کہ بچہ ایسا تعلیم یافتہ اور بااخلاق ہو جائے کہ باپ اگر دیکھے تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں لیکن ایک مدت گزر گئی، فرخ کی کوئی صحیح خبر نہ ملی۔فرخ کے بیٹے نے خدمت علم کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ چنانچہ وہ مسجد نبوی کی علمی مجالس میں شریک ہونے لگا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس وقت سب سے معزز و محترم شخصیت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی تھی جو رسول اللہؐ کے خادم خاص بھی رہ چکے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد تابعین میں سے سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ جیسے علماء کے درس سے بطور خاص منسلک ہو گیا۔اچانک بالا خانے کی ایک کھڑکی سے ایک نسوانی آواز بلند ہوئی ’’انہیں چھوڑ دو بیٹا۔۔۔ انہیں چھوڑ دو۔‘‘یہ گھر کی مالکہ یعنی ربیعہ کی ماں کی آواز تھی، جو شور سن کر بیدار ہو چکی تھیں،

ماں کی آواز سن کر بیٹا نرم پڑ گیا۔ اتنے میں اس کی ماں نیچے اتر آئی اور کہا ’’بیٹے یہ تمہارے والد محترم ہیں اور اے عبدالرحمن یہ تمہارا بیٹا ربیعہ ہے۔‘‘تعارف ہوتے ہی دونوں باپ بیٹا گلے مل گئے۔ ربیعہ نے ہاتھ اور پیشانی چومی اور باپ کی محبت بیٹے پر نچھاور ہونے لگی۔‘‘ فرخ تیس سال کے بعد آج اپنے گھر آیا تھا۔ وہ اپنی مجاہدانہ سرگزشت سنانے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے حالات بھی پوچھتا رہا اور پھر مستقبل کے بارے میں سوچنے لگا۔

’’ربیعہ کی ماں! دیکھو میرے پاس اس وقت چالیس ہزار دینار ہیں، جو تیس ہزار دینار میں تمہیں دے کر گیا تھا اس میں سے جو کچھ بچت ہے اسے ان میں شامل کر لو تو اس سے ہم کچھ قابل کاشت رقبہ اور باغ خرید لیں گے تاکہ گزر بسر کا سہارا بن جائے۔‘‘بیوی نے شوہر کی بات ٹال دی، اس خوشی کے موقع پر اسے یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ شوہر نے جو تیس ہزار دینار اس کے حوالے کیے تھے، وہ سب تو بچے کی تعلیم و تربیت پر خرچ ہو گئے ہیں۔

اب اگر شوہر کو یہ بات بتائی گئی تو کیا وہ یقین کر لے گا کہ اس کا بیٹا بہت زیادہ فراخ دل ہے اور وہ ایک درہم بھی اپنے پاس بچا کر نہیں رکھتا۔ مدینہ کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے دوست احباب اور مستحق لوگوں پر کتنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ ربیعہ کی ماں انہی خیالوں میں پیچ و تاب کھا رہی تھی کہ اس کے شوہر نے دوبارہ کہا ’’جو دینار بچے ہوئے ہیں وہ لاؤ پھر دیکھیں گے کہ کل ملا کر کتنی رقم بنتی ہے۔‘‘’’آپ فکر مند نہ ہوں۔‘‘ بیوی نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔

’’میں نے وہ تمام دینار رہیں رکھے ہوئے ہیں جہاں پر انہیں رکھنا چاہیے تھا۔ جلد ہی انشاء اللہ وہ آپ کے سامنے آ جائیں گے، آپ تھکے ہوئے ہیں، اب آرام کریں۔‘‘تھکے ماندے فرخ کو ایسی نیند آئی کہ صبح کی خبر نہ ہوئی۔ بیدار ہونے پر وضو کیا اور دروازے سے نکلتے ہوئے بیوی سے پوچھا کہ ’’ربیع کہاں ہے؟‘‘’’وہ اذان سنتے ہی مسجد میں پہنچ جاتا ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔ ’’آپ کو کچھ دیر ہو گئی ہے۔ اب شاید ہی جماعت آپ کو مل سکے۔‘‘

فرخ جب مسجد میں پہنچے تو جماعت ہو چکی تھی۔ انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور فارغ ہو کر جب مسجد سے باہر کی طرف آنے لگا تو دیکھا کہ پوری مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ طالبان کا ایسا باوقار اجتماع انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دور بیٹھے ایک شیخ کے گرد لوگ حلقہ بنا کر باادب بیٹھے تھے، مجمع اتنا بڑا تھا کہ مسجد میں کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ فرخ نے مجمع پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ حلقہ درس میں عمر رسیدہ علماء بھی شامل ہیں اور نوجوان طلباء بھی۔ سب کی نگاہیں شیخ پر ٹھہری ہوئی ہیں،

جو لفظ بھی ان کی زبان سے نکلتا، موتی کی طرح چھین لیا جاتا اور لکھ کر محفوظ کر لیا جاتا۔ شیخ جو کچھ ارشاد فرماتے مجمع میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے لوگ ان کی بات کے لفظ لفظ کو بلند آواز کے ساتھ دہراتے، تاکہ ہر شخص ان کی بات کو پوری طرح صحیح صحیح لکھ سکے۔فرخ مجمع کے کنارے پر تھا۔ اس نے بڑی کوشش کی کہ شیخ کو پہچان لے۔ لیکن فاصلے کی وجہ سے وہ انہیں پہچان نہ سکا۔ وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے حد درجہ متاثر ہوا۔

تھوڑی دیر کے بعد درس ختم ہو گیا۔ شیخ کھڑے ہوئے تو سارے لوگ ان کے پیچھے مسجد کے دروازے تک آئے۔ شیخ کا اتنا ادب و احترام دیکھا تو فرخ سے رہا نہ گیا۔ اس نے ایک آدمی سے پوچھا۔ ’’مجھے بتائیے کہ یہ شیخ کون ہیں؟‘‘یہ سن کر اس آدمی نے فرخ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور حیرانی سے کہا۔ ’’آپ ان کو نہیں جانتے؟ بڑی حیرت کی بات ہے! کیا آپ مدینہ کے باشندے نہیں ہیں؟‘‘’’بھائی میں مدینہ ہی کا باشندہ ہوں۔‘‘

فرخ نے کہا۔’’بھلا مدینہ میں بھی کوئی ایسا آدمی ہو سکتا ہے جو شیخ کو نہ جانتا ہو۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’معاف کیجئے گا، میں واقعی نہیں جانتا۔‘‘ فرخ نے کہا۔’’آپ بیٹھئے، میں آپ کو بتاتا ہوں!‘‘ اس آدمی نے فرخ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھئے یہ شیخ تابعی ہیں۔ عالم اسلام کی شان و شوکت کے امین، فقہائے مدینہ کی آبرو، مدینہ کے محدث اور امام ہیں۔ گو عمر میں ابھی نوجوان ہیں۔‘‘’’ماشاء اللہ۔‘‘ فرخ نے بے ساختہ کہا۔تو وہ آدمی دوبارہ گویا ہوا۔

’’ان کی مجلس میں مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ، ابو حنیفہ النعمان رحمتہ اللہ علیہ، یحییٰ بن سعید انصاری رحمتہ اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ، عبدالرحمن اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ اور لیث بن سعد رحمتہ اللہ علیہ جیسے علماء و فقہاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ اہل مدینہ میں ان سے بڑھ کر کوئی سخی، خوش اخلاق اور باکردار نہیں۔‘‘’’لیکن آپ نے ان کا نام نہیں بتایا؟‘‘ فرخ نے بے تابی سے پوچھا۔’’ان کا نام ربیعہ الرائے ہے!‘‘ ’’ربیعہ الرائے؟‘‘ فرخ نے بے ساختہ حیرت سے دوبارہ پوچھا۔

’’ہاں ربیعہ ہی ان کا نام ہے۔ لیکن مدینہ کے لوگ ان کو ’’ربیعہ الرائے‘‘ ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ علماء کسی دینی مسئلے کو سلجھا نہ پا رہے ہوں تو انہی کے پاس جاتے ہیں اور مطمئن ہو کر واپس آتے ہیں!‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’آپ نے ان کے والد کا نام نہیں بتایا؟‘‘ فرخ نے بے تابی سے پوچھا۔’’ربیعہ بن فرخ! شیخ جب پیدا ہوئے تو ان کے والد جہاد میں گئے ہوئے تھے، ان کی ماں نے ان کی تعلیم و تربیت کا فرض انجام دیا۔ اہل مدینہ ایسی ماں پر فخر کرتے ہیں،

میں نے نماز سے کچھ پہلے سنا تھا کہ ان کے والد ’’فرخ‘‘ تیس برسوں کے بعد واپس رات کو گھر آ گئے ہیں۔‘‘یہ سب کچھ سن کر فرخ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور وہ مزید کچھ پوچھے بغیر گھر کی طرف چل دئیے۔ بیوی نے شوہر کو نم آلود پلکوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو فوراً پوچھا۔ ’’کیا ہوا ہے آپ کو میرے سرتاج؟ خیریت تو ہے؟‘‘’’واللہ! میں نے آج جو اپنے بیٹے کا مرتبہ و مقام دیکھا ہے وہ آج تک کسی کا نہیں دیکھا۔‘‘

بیوی نے یہ سن کر موقع غنیمت جان کر فوراً کہا۔ ’’آپ بتائیے کہ دونوں میں سے آپ کو کون عزیز ہے، بیٹے کا مقام و مرتبہ یا تیس ہزار دینار؟‘‘یہ سن کر فرخ نے کہا۔ ’’خدا کی قسم، اس علم و کردار کے آگے تو ساری دنیا ہیچ ہے۔‘‘’’یہ تیس ہزار دینار میں نے اسی علم و کردار کی بلندی تک بیٹے کو پہنچانے کے لیے خرچ کر دئیے ہیں۔ بتائیے اللہ کے ساتھ کی ہوئی اس تجارت پر خوش ہیں یا نہیں؟‘‘بیوی کی یہ بات سن کر فرخ نے جذبات سے لبریز آواز میں کہا۔ ’’اللہ تمہیں جزائے خیر سے نوازے! تم نے مجھے وہ خوشی دی ہے جس پر ہر خوشی قربان، ایسی تجارت میں سرمایہ کھپایا ہے جس سے نفع بخش تجارت اور کوئی نہیں ہے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…