حضرت شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عزم مصمم کیا کہ ’’جب تک کسی کھانے کی چیز کے متعلق حلال ہونے کی مکمل تشفی نہ ہو گی اسے نہیں کھاؤں گا۔‘‘چنانچہ میں جنگل میں نکل گیا، وہاں پھر رہا تھا کہ ایک انجیر کے درخت پر میری نظر پڑی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اس کا پھل توڑ کر کھاؤں۔
فناد تنی الشجرۃ: احفظ علیک عقدک۔لاتا کل منی فانی لیھو دی۔یعنی ’’درخت سے آواز آئی کہ (اے شبلی!) اپنے عہد کا خیال رکھ۔ میرا پھل استعمال نہ کر، کیونکہ میں ایک یہودی کی ملک میں ہوں۔‘‘حرام مال کے مقابلے میں حلال چیز تھوڑی ہی مل جائے تو بہت بڑی غنیمت اور سعادت ہے۔ افسوس۔۔۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کو صرف حصول دنیا کی فکر ہے، آخرت کی کچھ فکر نہیں۔
فضول بحث و مباحثہ اچھی بات نہیں
حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ جو بڑے درجہ کے اولیاء اللہ میں سے تھے، دہلی میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے دین کا بڑا فیض پھیلایا، دو طالب علم بلخ سے آپ کی شہرت سن کر حاضر ہوئے۔ حضرت سے بیعت ہونے اور اصلاح کرانے کا ارادہ تھا۔ جب حضرت کی مسجد میں پہنچے تو نماز کا وقت ہو رہا تھا تو وضو کرنے بیٹھ گئے۔ ایک طالب علم دوسرے سے کہنے لگا کہ ’’یہ حوض جس سے ہم وضو کر رہے ہیں، یہ بڑا ہے یا وہ جو ہمارے بلخ میں ہے؟‘‘تو دوسرے نے کہا کہ ’’وہ بلخ والا بڑا ہے۔‘‘اس نے کہا کہ ’’میرے خیال میں یہ دہلی کا حوض بڑا ہے۔‘‘اب اس موضوع پر دونوں کے درمیان دلائل کا تبادلہ شروع ہوا، ایک کہہ رہا تھا وہ بڑا ہے، دوسرا کہہ رہا تھا یہ بڑا ہے۔
حضرت مرزا صاحبؒ بھی وہیں وضو فرما رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ دونوں آدمی اس طرح بحث کر رہے ہیں۔ جب نماز ہو گئی تو یہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سوال کیا کہ ’’کیسے آنا ہوا؟‘‘انہوں نے کہا کہ ’’حضرت! آپ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے اور بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘حضرت نے فرمایا کہ ’’پہلے یہ طے کر لو کہ ہماری مسجد کا حوض بڑا ہے یا بلخ کا حوض بڑا ہے؟
یہ مسئلہ طے کر لو تو پھر آگے بات چلے۔‘‘اب وہ بڑے شرمندہ ہوئے۔ لیکن حضرت نے فرمایا کہ جب تک یہ اہم مسئلہ طے نہ ہو اس وقت تک بیعت کرنا فضول ہے۔ لہٰذا پہلے اس حوض کو ناپو، پیمائش کرو اور پھر واپس جا کر اس حوض کو ناپو، اس کے بعد فیصلہ کرو کہ یہ بڑا ہے یا وہ بڑا ہے، جب یہ کام کر لو گے تو تمہیں بیعت کریں گے۔‘‘ اور پھر فرمایا کہ ’’تمہاری اس گفتگو سے دو باتیں معلوم ہوئیں،
ایک یہ کہ فضول بحث و مباحثہ کرنے کی عادت ہے، جس کا کوئی مصرف نہیں اور دوسری بات یہ کہ بات میں تحقیق نہیں، آپ نے ویسے ہی اندازے سے دعویٰ کر لیا کہ وہ بڑا ہے۔ تحقیق کسی نے کی نہیں، تو معلوم ہوا کہ زبان سے بات کرنے میں تحقیق نہیں اور فضول بحث و مباحثہ کی عادت ہے۔ اس کی موجودگی میں اگر آپ کو کچھ ذکر و اذکار بتاؤں گا تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک یہ عادت ختم نہ ہو، اور یہ عادت اس طرح ختم ہو گی کہ ایک مرتبہ تمہیں سبق مل جائے کہ اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ لہٰذا واپس جاؤ اور پیمائش کرنے کے بعد پھر واپس آنا تو بات چلے گی۔‘‘



















































