اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’سنسر‘‘

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ کے صفحہ نمبر 432 مطبوعہ جنوری 1986 باب چہارم میں لکھتے ہیں کہ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناحؒ اور حکومت کے درمیان سرد مہری کا غبار چھایارہا اور اسی سرد مہری کی فضا میںبانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی دو برسیاں آئیں اور گزر گئیں۔ دونوں بارمحترمہ فاطمہ جناحؒ نےقائدؒ کی برسی کے موقع پر قوم سے خطاب کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کی شرط یہ تھی کہ نشر ہونے سے قبل وہ اپنی تقریر کا متن کسی کو نہیں دکھائیں گی(تقریر سنسر کیلئے پیش کرنے کیلئے تیار نہ تھیں)جبکہ حکومت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی یہ شرط ماننے پر آمادہ نہیں تھی۔ حکومت وقت کو غالباً یہ خوف تھا کہ نہ جانےمحترمہ فاطمہ جناحؒ اپنی تقریر میں حکومت پر کیا کچھ تنقید کر جائیں ۔ قائد اعظم کی تیسری برسی پر یہ طے پایا کہ محترمہ فاطمہ جناح اپنی تقریر پہلے سے سنسر کروائے بغیر ہی ریڈیو سے براہ راست نشر کرسکیں گی ۔محترمہ فاطمہ جناح ؒؒنےریڈیو سٹیشن کی عمارت میں موجود براڈ کاسٹ سٹوڈیو میں بیٹھ کرتقریر شروع کی، تقریر نشر ہورہی تھی کہ ایک مقام پر پہنچ کر اچانک نشریات بند ہوگئی۔ کچھ لمحے نشریات بند رہی، اس کے بعد جاری ہوگئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ محترمہ فاطمہ جناح ؒکی تقریر میں کچھ فقرے ایسے تھے جن میں حکومت پر کچھ تنقید کی گئی تھی لیکن ٹرانسمیشن بند ہوجانے کی وجہ سے وہ فقرے براڈ کاسٹ(نشر) نہ ہوسکے۔اس بات پر بڑا شور شرابا ہوا۔ اخباروں میں بہت سے احتجاجی بیانات بھی آئے۔ اگرچہ ریڈیو پاکستان کا مؤقف یہی تھا کہ نشریات میں تعطل کی وجہ بجلی کااچانک فیل ہونا تھا، لیکن کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح ؒکی تقریر میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جسے حذف کرنے کے لیے یہ سارا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ اس ایک واقعے کی وجہ سے حکومت پر اس قدر تنقید اور بداعتمادی کا مظاہرہ کیا گیاکہ محسوس کیا جانے لگا کہ حکومت کو اتنا نقصان محترمہ فاطمہ جناح ؒکے نشر نہ ہونے والے چند تنقیدی جملوں نہیں پہنچاسکے جتنا وہ جملے نشر ہو کر پہنچاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…