ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے بارے میں حکیم محمد حسین عرشی امرتسری جن کا علامہ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا وہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ علامہ مرحوم امریکہ یا کسی مغربی ملک میں بصورت وفد گئے۔ تمام ارکان وفد اپنی بیویوں سمیت جا رہے تھے۔ علامہ نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ’’ان کی بیگم پردہ کی پابند ہیں، اور ایسے وفود میں پردہ کا ذکر تک نہیں آ سکتا۔‘‘
نیک لوگوں کی قوت برداشت
کسی شخص نے حضرت سلمانؒ کو گالی دی۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’(اے شخص) قیامت کے دن اگر (ترازوئے عدل میں) میرے گناہوں کا پلڑا بھاری نکلا تو جو کچھ تو کہہ رہا ہے، میں اس سے بھی بدتر ہوں۔ لیکن اگر وہ پلڑا ہلکا نکلا (یعنی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا) تو تیرے یوں کہنے کی مجھے پرواہ ہی کیا ہے؟‘‘اسی طرح ربیع بن خشیم کو کسی نے گالی دی تو انہوں نے کہا کہ ’’(اے شخص) میں تو اس گھاٹی کے طے کرنے میں مشغول ہوں جو میرے اور بہشت کے درمیان حائل ہے۔ اگر میں کامیاب رہا تو تیری بات کا مجھے کوئی ڈر نہیں اور اگر ناکام رہا تو جو کچھ تو نے کہا، وہ بھی بہت کم ہے (کہ پھر تو میں اس سے بھی بدتر ہوں)۔‘‘ اور یہ دونوں بزرگ غم آخرت میں اس درجہ مستغرق رہتے تھے کہ گالیوں پر انہیں غصہ نہ آیا۔ کسی نے جناب ابوبکرؒ کو گالی دی تو فرمایا کہ ’’(تو نے کچھ بھی نہیں کہا کیونکہ) جو کچھ ہمارے بارے میں تجھ سے پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے (جو تم نے کہا)۔‘‘ پس اپنی اس مشغولیت کے باعث انہیں غصہ نہ آیا۔مالک دینارؒ کو ایک بڑھیا نے ’’ریا کار‘‘ کہا۔ تو آپ نے فرمایا ’’مجھے کسی نے نہ پہچانا مگر تم نے (خوب پہچانا)۔‘‘جناب شعبی کو کسی شخص نے کوئی (بری) بات کہی۔
فرمایا ’’اگر تو سچ کہتا ہے تو خدا مجھے معاف کرے اور اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تجھے بخش دے۔‘‘
نافرمانی کی سزا
ارشاد فرمایا، امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ علیہ نے عجیب نکتہ لکھا ہے کہ ’’ماں کے پیٹ میں بچے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں پر بچہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتا۔
جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شروع ہو جاتی ہے۔ وہاں پھر پریشانیاں بھی جنم لینے لگتی ہیں۔‘‘ ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے ’’اے لوگو! تم جتنا چاہو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو توڑو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری زندگی کو یہیں پر جہنم نہ بنا دیا تو پھر کہنا۔‘‘ جو کوئی نافرمانی کرے گا اس کی زندگی کی جہنم کا نمونہ بن جائے گی۔



















































