معصوم سا بچہ مسجد ایک طرف بیٹھا پورے انہماک سے ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا – یہ خشوع تو عمر کے آخری حصے میں بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے جو الله نے اسکی جھولی میں ابھی سے ڈال دیا تھا – لباس پیوند زدہ تھا مگر نہایت صاف ستھرا – اسکے ننھے ننھے سے گال آنسووں سے بھیگ چکے تھے – بہت لوگ اسکی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بے خبر اپنے رب سے باتوں میں لگا ہوا تھا –
جیسے ہی وہ اٹھا , میں نے بڑھ کے اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا” کیا کیا مانگا الله سے ” میں نے پوچھا ” میرے ابا فوت ہو گئے ہیں انکے لئے جنت , میری ماں روتی رہتی ہے انکے لئے صبر , میری بہن ماں سے چیزیں مانگتی ہے اسکے لئے پیسے “” تم سکول جاتے ہو ” میرا سوال ایک فطری سا سوال تھا -” ہاں جاتا ہوں “”کس کلاس میں پڑھتے ہو ” ” نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا , ماں چنے دیتی ہے وہ سکول کے بچوں کو بیچتا ہوں – بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں – ہمارا یہی کام دھندہ ہے ” بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا -” تمہارا کوئی رشتہ دار “میں نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا ” پتہ نہیں – ماں کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا – ماں جھوٹ نہیں بولتی نا انکل – پر مجھے لگتا ہے میری ماں کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے – جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمیں دیکھتی رہتی ہے – جب کہتا ہوں ماں آپ بھی کھاؤ , تو کہتی ہے میں نے کھا لیا تھا – اسوقت لگتا ہے جھوٹ بولتی ہے “” بیٹا اگر تمھارے گھر کا خرچہ مل جائے تو پڑھو گے “” نہیں بالکل نہیں “” کیوں” ” پڑھنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں انکل – ہمیں کسی پڑھے ہوۓ نے کبھی نہیں پوچھا – قریب سے گزر جاتے ہیں ” میں حیران بھی تھا اور شرمندہ بھی – ” روز اسی مسجد میں آتا ہوں , کبھی کسی نے نہیں پوچھا – یہ سب نماز پڑھنے والے میرے ابا کو جانتے تھے – مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا – “بچہ زار و قطار رونے لگا” انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں
میرے پاس بچے کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا – ایسے کتنے معصوم ہونگے جو حسرتوں سے زخمی ہیں – آپ اپنے مال ميں یتیموں كا خيال ركهئے ان كے سر پر شفقت كا ہاتھ پھیرتے رہيں. ﺍﮮ الله کریم ہم ﮔﻤﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁ ۔



















































