اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ان کی عظمت کی برقراری کی وجہ

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

چارپائی کے سرہانے مٹی کا ایک دیا جل رہا تھا۔ اس دئیے کی روشنی میں وہ پڑھ رہا تھا۔ رات نصف کے قریب گزر چکی تھی۔ وہ روز رات کے دو تین بجے تک پڑھتا تھا۔ یہ روز اس کا معمول تھا۔ فاراب اب ترکستان کا ایک شہر ہے، اس شہر کے ایک محلے میں یہ غریب لڑکا رہتا تھا۔ علم حاصل کرنے کا حد درجے شوقین تھا۔ دن کے وقت استاد سے جو کچھ پڑھتا، رات کو اسے یاد کرتا،

جب تک پورا سبق یاد نہ کر لیتا، اس وقت تک نہ سوتا، بعض اوقات تو تمام رات ہی پڑھنے میں گزار دیتا تھا۔لیکن اس رات کیا ہوا، دئیے کی لو اچانک کم ہونے لگی۔ اس نے بتی کو اونچا کیا، پل بھر کے لیے روشنی تیز ہو گئی، پھر دیا بجھ گیا۔ وہ جلتا بھی کیسے، اس کا تیل ختم ہو گیا تھا۔ اب تو وہ بہت پریشان ہوا۔ آدھی رات کے وقت تیل کہاں سے لاتا۔ تمام دکانیں بند تھیں، کوئی کھلی ہوتی تو بھی اس کے پاس کون سے پیسے تھے کہ ان کا تیل لے آتا۔ اپنا خرچ چلانے کے لیے وہ محلے کے ایک بچے کو پڑھاتا تھا۔ اس طرح اسے جو پیسے ملتے، ان میں سے دئیے کے لیے تیل بھی خریدتا تھا۔ اس بار تیل وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا۔ اس نے سوچا، اب کیا ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کتاب سرہانے رکھ کر سو جائے۔ لیکن ابھی تو اسے دو گھنٹے اور پڑھنا تھا۔ وہ یہ دو گھنٹے کس طرح ضائع کر سکتا ہے اور پھر دوسرے دن کے لیے بھی تو اس کے پاس تیل نہیں تھا۔ پیسے نہیں تھے۔ وہ باہر نکلا۔ دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ ایسے میں اسے اندھیرے میں روشنی کی ایک لکیر سی نظر آئی۔ اس کے قدم فوراً روشنی کی طرف اٹھنے لگے۔ نزدیک پہنچ کر اس نے دیکھا، روشنی ایک قندیل سے آ رہی تھی اور قندیل چوکیدار کے ہاتھ میں تھی۔اس نے چوکیدار سے بہت باادب ہو کر کہا۔ ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں قندیل کی روشنی میں کتاب پڑھ لوں۔

میرے دئیے میں تیل ختم ہو گیا ہے۔‘‘چوکیدار سمجھ گیا کہ بے چارہ غریب طالب علم ہے۔ چنانچہ اس نے کہا۔ ’’ہاں بیٹا، پڑھ لو۔۔۔‘‘اس نے قندیل کی روشنی میں کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ لیکن اب مشکل یہ تھی کہ چوکیدار ایک جگہ رک کر تو پہرہ نہیں دے سکتا تھا۔ گھوم پھر کر چوکیداری کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ اس نے کہا ’’بیٹا اب تم گھر جا کر سو جاؤ۔ میں تمام رات ایک جگہ نہیں رک سکتا۔‘‘اس پر طالب علم نے کہا۔

’’آپ ضرور چلتے جائیں۔۔۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا اور کتاب پڑھتا رہوں گا۔‘‘چنانچہ چوکیدار آگے آگے چلتا رہا اور یہ پیچھے اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے قندیل کی روشنی میں کتاب پڑھتا رہا۔ اس طرح مطالعہ کرنے میں اگرچہ بہت دقت پیش آ رہی تھی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ چار بجے تک پڑھتا رہا۔ پھر چوکیدار کا شکریہ ادا کرکے گھر چلا گیا۔دوسری رات بھی یہی ہوا۔

تیسری رات لڑکا آیا تو چوکیدار نے کہا ’’بیٹا! یہ قندیل تم لے لو، میں اپنے لیے اور قندیل لے آیا ہوں۔‘‘لڑکے نے یہ بات سنی تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بڑا خزانہ ہاتھ آ گیا ہو۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ لڑکا کون تھا۔ یہ لڑکا بڑا ہونے پر ابو نصر الفارابی بنا جو عالم اسلام کے نامور فاضل، معقولات کے ماہر اور بے مثال فلسفی کے طور پر مشہور ہوئے۔ دنیا نے ان کی عظمت کا لوہا مانا۔ آج ان کی وفات کو تقریباً ایک ہزار سال گزر چکے ہیں۔ لیکن ان کی عظمت اسی طرح برقرار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…