امریکہ میں کئی دہائیاں پہلے مکڈونلڈز ریسٹورنٹ کے فرش پر صفائی کے دوران گیلا کپڑا لگایا گیا جس سے ٹائلڈ فرش پر تھوڑی سی پھسلن ہوگئی۔ ایک ادھیڑ عمر شخص برگر خریدنے آیا تو پھسلن کی وجہ سے سلپ ہوگیا اور اس کے پاؤں میں موچ آگئی۔ اس نے مکڈونلڈز پر کیس کردیا اور عدالت نے مکڈونلڈز کو حکم دیا کہ وہ کئی لاکھ ڈالرز ہرجانے کے طور پر اس شخص کو ادا کرے۔
پھر اس کے بعد ہر پبلک مقام پر یہ لازم ہوگیا کہ اگر فرش گیلا ہو تو وہ پبلک کو خبردار کرنے کیلئے پیلے رنگ کا وارننگ بورڈ فرش پر رکھیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی پھسلے تو پھر قصور اس کا ہوگا، ادارے کا نہیں۔ کچھ عرصہ بعد ایک اور ریسٹورنٹ میں ایک شخص سلپ ہوا اور اپنی پسلی تڑوا بیٹھا۔ اس نے بھی عدالت میں کیس کردیا۔ ریسٹورنٹ کا مالک مطمئن تھا کہ اس نے فرش پر وارننگ کا بورڈ لکھ کر لگا رکھا تھا، اس لئے وہ یہ مقدمہ نہیں ہار سکتا۔ ذخمی شخص نے عدالت کو بتایا کہ نے شک بورڈ وہاں موجود تھا لیکن وہ انگلش پڑھنا نہیں جانتا کیونکہ وہ ہسپانوی ہے۔ عدالت نے اس ریسٹورنٹ کو ایک بھاری جرمانہ عائد کردیا اور پھر اس کے بعد سب نے بورڈ پر نہ صرف لکھ کر بلکہ تصویر کی مدد سے بھی فرش کے گیلا ہونے کا وارننگ سائن لگانا شروع کردیا۔ اسی طرح آج سے کئی سال پہلے مشہور کافی چین سٹاربکس سے کسی خاتون نے کافی خریدی۔ گھونٹ بھرنے لگی تو گرم کافی نے اس کے ہونٹ جلا دیئے۔ خاتون کا تعلق ماڈلنگ کے شعبے سے تھا، اس نے عدالت میں کیس کردیا۔ سٹاربکس کا مؤقف تھا کہ ان کی کافی گرم ہی ہوتی ہے اور یہ ایک بچے کو بھی پتہ ہونا چاہیئے کہ گرم کافی کیسے پیتے ہیں۔ لیکن عدالت نے پھر بھی فیصلہ اس خاتون کے حق میں دیا کہ اگر اسے وارننگ مل جاتی تو شاید وہ اپنے ہونٹ بچا لیتی اور اس کی ماڈلنگ کا ہرج بھی نہ ہوتا۔ سٹاربکس کو بھاری جرمانہ ہوا اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنے ڈسپوزیبل کپ پر وارننگ لکھنا شروع کردی۔
یہ مہذب ممالک ہیں جہاں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے اور تمام قانون سازی عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کی جاتی ہے۔



















































