یونیورسٹی کب جوائن کررہے ہو بر خوردار ! ماموں جان نے صبح ناشتے کرتا ہوئے مجھ سے پوچھا۔ ماموں جان اپلائی کر چکاہوں ان شاء اللہ جلد داخلہ ہو جائے گا اور پھر واصف کا داخلہ یونیورسٹی میں ہو گیا ۔ پروفیسر نود سوشیل سائنس کا ایک بڑا نام تھا پروفیسر نود میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ذہین طالب علموں کو اپنے قریب رکھتے یا اپنے قریب کر لیتے تھے
اور ان سے ان کے مراسم اس حد تک بڑھ جاتے کہ ان کے گھر میں آنا جانا ،بے تکلفی کی تمام دیواریں ختم ہو جاتی تھیں۔ واصف بھی ہونہار طلبہ میں شمار ہو تا تھا اس لیے جلد ہی پروفیسر نود کی نظروں میں سما گیا آہستہ آہستہ مغر بی فکر کا سلو پوائزن پروفیسر نود نے واصف کے ذہن میں ڈالنا شروع کیا وقت گزرتا رہا اور اب وہ مغرب کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ کے بے ہودہ فلسفے سے متا ثر ہو چکا تھا دوسرے لفظوں میں شکار ہوچکا تھا۔ ایک ایسا وائرس جو ابتداء میں تو بہت بے ضرر دکھائی دیتا ہے لیکن پروفیسر نود جیسے لوگ اس وائرس کو طلبا کے اذہان میں ایسے اتارتے ہیں کہ یہ ایمان اور عقیدے کو چاٹ لیتا ہے۔ دوسرا ذہین طلبہ کو قریب کرنے کا مقصد بھی یہ ہی ہو تا ہے کہ یہ کسی بھی اونچی جگہ پہنچیں گے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں معاون و مددگار ہوں گے۔ واصف رینے ڈیکارت اور کانٹ کے فلسفہ روشن خیالی کے وائرس سے شدید متاثر ہو چکا تھا ۔ اکیلی میری ذات(عقل) میرا اپنا وجود ہے جس کا ہونا کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے یعنی میں اپنے اسی دنیا میں ہونے کا جواز اندر رکھتا ہوں نا کہ کسی خالق کائنات کے وجود کی بنیاد پر ‘‘میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں ،چاہے زنا کروں چاہے شراب پیوں روشن خیال ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ یہ پردہ ڈاڑھی ، حجاب، نماز ،روزہ یہ سب دقیانوسی قسم کے لوگوں کا کام ہے ۔ پروفیسرنود کی دعوت نفس کو اپیل کرتی ہے انسان خواہشات کی جانب لپکتا ہے
اور یہ ہی واصف کے ساتھ ہوا وہ نفس کے دام میں گرفتار ہو گیا ۔ ایک دن واصف کا دوست ساحل ،واصف سے کہنے لگا آج تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں ولی کامل سے ملاتا ہوں۔ واصف نے کہا ولی کامل اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑا کوئی خدا ہی نہیں تو ولی کہاں ؟ پھر اپنا ظاہر کھلنے کے ڈر سے کہنے لگا کہ مذاق کررہا ہوں چلیں گے کل ۔۔۔۔یہ کہہ کر واصف وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب واصف ساحل کے ساتھ بندو بابا کے پس پہنچا تو بندو با با مسجد میں نوجوانوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے صاحبِ نظر بزرگ تھے واصف پر ایک نظر ڈالی اور واصف کی بیماری کو سمجھ لیا بغیر واصف کو مخاطب کیے قرآن کی درج ذیل آیت تلاوت کی ۔ وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــــًٔا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا سورہ فرقان ۳ اور لوگوں نے اس کے سوا اور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اٹھنے کا، جو خود پیدا کیے گئے ہوں ۔۔۔۔جن کا وجود ماں باپ سے مل کر بنا ہو ۔۔۔۔۔جو خود اپنی جان کے مالک نہ ہوں انہیں جینے کا اختیا رنہ ہو کہ وہ اپنی پیدائش سے بیس سال پہلے آجاتے یا نہیں آتے ۔۔۔۔جنہیں اپنی موت کا اختیار نہ ہو وہ اپنی موت کو روک نہیں سکتے ٹال نہیں سکتے دھتکار نہیں سکتے وہ لوگ یہ دعویٰ کریں کہ وہ خدا ہیں بہت حیران کن ہے یہ بات ۔
واصف کے دل کی حالت تبدیل ہو چکی تھی اس نے حیرت سے ایک نظر بندو بابا کی جانب دیکھا بندو بابا نے سورہ فرقان کی ۴۳ آیت تلاوت کی اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ سور فرقان آیت ۴۳ کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا لبرل ازم کی صحیح تعریف یہ ہی ہے ۔۔۔اللہ و رسول ﷺ کی تعلیمات کو سُن کر کان بند کر لو۔ آنکھیں پھیر لو۔ یہ تو ان چوپایوں سے بھی بد تر ہیں جو اپنے مالک کو تو پہچانتے ہیں ۔۔۔۔ان کا نفس جہاں انہیں ہانک کر لے جاتا ہے یہ چلے جاتے ہیں ۔ بس یہ ہے لبرل ازم اور سیکولر ازم کا قرآنی جواب جہاں وہ جواب دیتا ہے کہ جس آزادی کی تم بات کرتے ہو وہ تو تم اپنی خواہشات کی بات کررہے ہو آزاد کہاں ہو نفس کے غلام بن چکے ہو ۔۔۔۔جہاں تم اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیتے ہو نفس کی اطاعت کرتے ہو ۔۔۔۔خواہشِ نفس پر لبیک کہتے ہو ۔۔۔۔مخلوط محفلیں تمہاری نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں ۔۔۔۔حلال و حرام کی تفریق تم اپنے نفس کی پیروی کرتے ہوئے ختم کر چکے ۔۔۔۔۔تمہاری خواہش تمہارا اخلاق قرارر پا جائے ۔۔۔۔تمہارا مفاد تمام قدروں کو پاؤں کی ٹھو کر پر لے آئے ۔۔۔۔۔ تم آزاد نہیں ۔۔نفس کے غلام ہو ۔۔۔غلام ہو۔۔۔غلام ہو ۔۔۔۔غلام ہو۔ بندو بابا کے الفاظ واصف کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے میرے بچو! ابلیس کے دھوکے سے بچنا ۔۔۔۔۔۔۔ انہی جیسوں کے لیے فرمایا کہ یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں ۔۔۔۔۔ایسے پروفیسرز سے بچ کے رہو یہ تمہیں ابلیس کی راہ پر چلا دیں گے ۔
اقبال نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا تھا نا کہ ’’چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ ‘‘ پروفیسر نود کا بنایا ہو ا شیشے کا شیش محل زمین بوس ہو چکا تھا اور واصف اپنے رب کے حضور سچی توبہ کر رہا تھا



















































