مسلمانوں میں کتنے ہی سیاح گزرے ہیں، مگر سب سے زیادہ شہرت ابن بطوطہ کو ملی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تیس سال سیاحت میں گزارے۔ اس عرصے میں انہوں نے تقریباً پچھتر ہزار میل کا سفر طے کیا۔ سترہ رجب سات سو تین ہجری بمطابق 1305ء کو شمالی افریقہ کے شہر طنجہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی،
یہاں تک کہ جب عمر 21 سال کی ہوئی تو طنجہ سے 725ھ میں حج کے ارادے سے نکلے اور یہیں سے ان کی سیاحت کا آغاز ہوا۔ مصر، حجاز، ترکستان اور خراسان سے ہوتے ہوئے خشکی کے راستے سے 734 ھ میں ہندوستان آ پہنچے۔اس وقت یہاں سلطان محمد تغلق کی حکومت تھی۔ اس نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی پھر انہیں دہلی کا قاضی مقرر کیا۔ آٹھ دس سال ابن بطوطہ یہاں مقیم رہے۔ پھر ایک وفد کے ساتھ چین کی طرف روانہ ہوئے۔ چین سے واپسی پر جزائر شرق ہند وغیرہ سے گزرے، پھر 748ھ میں سومطرا کی راہ سے عراق، شام، فلسطین وغیرہ کی سیاحت کرتے ہوئے مکہ معظمہ پہنچے، جہاں انہوں نے اپنا چوتھا حج کیا۔ پھر انہیں وطن کی یاد آئی۔ چنانچہ مکے سے چلے تو مصر، تیونس، الجزائر اور مراکش سے ہوتے ہوئے 750ھ میں گھر پہنچے۔گھر پر بمشکل پانچ یا چھ سال ٹھہرے اور پھر اندلس چلے گئے۔ وہاں سے واپس ہوئے تو پھر صحرائے افریقہ کی سیر کرتے ہوئے 754ھ میں ٹمبکٹو پہنچے، مگر وہاں سے جلد ہی وطن واپس لوٹ آئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا وہ مشہور سفرنامہ مرتب کیا جو سفرنامہ ابن بطوطہ کے نام سے دنیا میں مشہور ہوا۔ اس کی ترتیب سے 756ھ میں فارغ ہوئے۔ 779ھ بمطابق 1377ء میں انتقال کر گئے۔
چاول کے دانہ پر سورۂ اخلاص
آپ کو فن خطاطی میں کمال حاصل تھا۔ اسی لیے ناقل لقب سے ملقب تھے۔ یعنی قرآن مجید وغیرہ کتب کی نقل کرنے والے۔ باریک نویس میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ ایک چاول پر سورۂ اخلاص لکھ دیتے تھے۔ اس طرح کہ کوئی ایک حرف بھی نہ چھوٹتا۔ اسی طرح آیت الکرسی بھی صرف ایک چاول پر تحریر کر دیتے تھے۔
قرآن مجید اور حمائل شریف کی اتنی نقلیں اپنے قلم سے کر دیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔ آپ نے 788ھ میں انتقال فرمایا۔
’’میں‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرتے
انسان کے اندر سے ’’میں‘‘ بہت دیر سے نکلتی ہے۔ اس لیے مشائخ کرام اپنے لیے ’’میں‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ فقیر اور عاجز کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
یہ فقیر بھی اپنے لیے انہی لفظوں کو پسند کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے انسان کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ رب تعالیٰ شانہ کے سامنے بے ادبی کرے۔ یاد رکھیں! انسان میں ذکر کے ساتھ ساتھ ’’میں‘‘ بھی بڑھتی رہتی ہے۔ آخری چیز جو انسان کے دل سے نکلتی ہے وہ تکبر ہے۔ بڑا بننے کی خاطر انسان ذلت بھی گوارا کر لیتا ہے۔ یہ اسمبلی کے ممبران ووٹ لینے کی خاطر لوگوں کی وقتی ذلت بھی اٹھا لیتے ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کرتے اور بعد میں کوئی خبر نہیں لیتے۔



















































