خلیفہ مامون الرشید (198ھ۔ 218) نے ایک غلام کو نان و نفقے کے لیے پچاس ہزار دینار بھیجے اس نے اسی وقت مساکین و یتامیٰ میں بانٹ دیے۔ اس کی اہلیہ نے کہا ’’آپ یہ رقم جمع رکھتے، تو کل کام آتی۔‘‘فرمایا ’’میں نے یہی تو کام کیا ہے کہ رقم اللہ کے پاس جمع کر دی ہے۔ کل ہمارے کام آئے گی۔‘‘
امام صاحب کی محبت اختیار کرو، امام اوزاعی کا حکم
امام اوزاعیؒ شام میں رہتے تھے۔انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں ایسی ویسی بہت سی باتیں سن رکھی تھیں۔ ایک مرتبہ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد عبداللہ بن مبارکؒ امام اوزاعیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا۔ ’’اے خراسانی! (عبداللہ بن مبارکؒ کی نسبت ہے) ابو حنیفہؒ کون شخص ہے؟ میں نے سنا ہے وہ بہت گمراہ ہے۔‘‘عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ میں خاموش ہو گیا۔ گھر آیا اور امام ابو حنیفہؒ کے بیان کردہ مسائل پرمشتمل کتاب اٹھائی اور امام اوزاعیؒ کی خدمت میں پیش کر دی۔ انہوں نے مطالعہ کیاتو فرمانے لگے ’’اے خراسانی! یہ نعمان کون شخص ہے؟ اس کا علمی پایہ تو بہت بلند ہے۔ اس سے تمہیں استفادہ کرنا چاہیے۔‘‘میں نے کہا کہ ’’یہ وہی امام ابو حنیفہؒ ہیں جن کے متعلق آپ باتیں سنتے رہتے ہیں۔‘‘ان کا چہرہ فق ہو گیا اور کہنے لگے ’’ہم نے کیا سنا تھا، حقیقت کیا تھی۔‘‘ فرمایا ’’اے خراسانی! اس کی صحبت اختیار کر اور فائدہ اٹھا‘‘
بخاری ہو گیا تباہ، واہ شاہ جی واہ
شاہ جی سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا۔ ’’شاہ جی، کیاحال ہے؟‘‘فرمایا ’’انگریز کے خلاف تقریر کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں، واہ شاہ جی واہ، اس پر جیل جانا پڑتا ہے تو لوگ کہتے ہیں آہ شاہ جی آہ۔ تمہاری اس آہ اور واہ میں بخاری ہو گیا تباہ۔‘‘



















































