فطرت کے حسین نظارے انسانوں سے زیادہ احساسات کو سمجھتے ہیں۔ جب کوئی اداس عورت ساحل پر بیٹھ کر ناریل کے درختوں کا نظارہ کرتی ہے تب اس کے لہراتے ہوئے پتے اسے سکون پہچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں ان راتوں کا درد جن راتوں میں وہ ذہنی طور پر بیمار لوگوں کے بستروں پر تشدد کا نشانہ بنتی ہیں
اور پھر دن کو اپنے چھوٹے سے مکانوں میں تھوڑی سی نیند کرنے کے بعد شام کو سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل وہ بہت سارے میک اپ والے چہرے پر بڑا سے چشمہ آویزاں کرکے لوٹ آتی ہیں اسی بازار میں پھر بکنے کے لیے جو بازار انسان کا دل نہیں بلکہ جسم دیکھتا ہے۔ جب رات کو بیئر کی جھاگ اڑتی ہے اور ماحول میں سگار کا دھواں بکھر جاتا ہے اور سیاحوں کو ہوش اڑانے کا بہانہ میسر آجاتا ہے تب کوئی کسی سے کہتا ہے کہ ‘‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’’ اور اس جھوٹے جملے پر کوئی شکریہ ادا کرنے والی آنکھیں ایسی اداکاری سے جھکا دیتا ہے جیسی اداکاری روم سے آنے والی وہ لڑکی اس ناول میں کرتے کرتے بیزار ہوجاتی ہے جو البرٹ موراویا نے دوسری جنگ عظیم میں یورپ کے زخمی ضمیر کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھی۔ وومن آف روم‘‘ تھا نام اس ناول کا جو اطالوی ادیب البرٹ موراویا نے 1947 میں لکھا تھا۔ اس ناول کی ہیروئن ایک ایسی لڑکی ہے جو پہلے ماڈل بنتی ہے اور پھر جسم بیچتے بیچتے تھک جاتی ہے۔ جب کہ اس ناول کا ہیرو ایک ایسا عینیت پرست دانشور ہے جو مسولینی کے فاشسٹ تفتیش کرنے والوں کے سامنے سارے ساتھیوں کے نام اگل دیتا ہے اور آخر تک سمجھ نہیں پاتا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ مگر یہ احساس جرم اس کے ذہن کو مفلوج کردیتا ہے! وہ فاشزم کا دور تھا۔ جب جرمنی کے ہٹلر اور اسپین کے فرانکو اور اٹلی کے مسولینی نے پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں قید کرنے کی کوشش میں دنیا کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا تھا۔
اس وقت وہ اکیلے نہیں تھے۔ پوری جرمن قوم ہٹلر کے اشارے پر کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھی اور فرانکو کے فاشسٹ فوجی انٹرنیشنل برگیڈ میں شامل ادیبوں اور شاعروں کو گولیوں سے اڑا رہے تھے۔ جب کہ اٹلی میں کالے رنگ کی شرٹس پہننے والے نوجوان مسولینی کے جنگجو رضاکار بن کر روم کے سڑکوں پر مارچ کیا کرتے تھے۔ اس دور میں یورپ کے نوجوانوں کا خیال تھا کہ اس دنیا کو صرف فاشزم ہی بچا سکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے خاندانوں سے چھپ کر آدھی رات تک پہلی عالمی جنگ کے دوراں شکستہ عمارات میں بیٹھ کے میٹنگیں کرتے اور اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے جلتی ہوئی موم بتی کے شعلے پر دیر تک ہتھیلی رکھ دیتے تھے۔ مگر پھر کیا ہوا؟ طاقت کے نشے نے ان نوجوانوں کو اس قدر پاگل کردیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سیزر سمجھنے لگا اور وہ دنیا کے ہر ملک کو اپنے تسلط میں کرنے کے لیے ایسی جنگ میں کود پڑے جس میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئیں۔ مگر اس ساری خونریزی کے بعد کیا حاصل ہوا؟ ان ماؤں کی آنکھیں جن کے آنسو خشک ہوگئے تھے۔ ان بچوں کے ہاتھ جو کوڑے کے ڈھیروں پر کتوں سے لڑتے ہوئے اپنے پیٹ ماں بھوک کی جلتی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے تھے اور وہ نوجوان معذور جو ویل چیئر پر بیٹھ کر شام کے غروب ہوتے ہوئے سورج کو دیکھتے اور خاموش رہتے۔ مگر اس دور میں وہ کمیونسٹ بہت خوش تھے جنہوں نے دنیا کو فاشی درندوں سے نجات دلائی۔
ہٹلر کو شکست دینے اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتیں بنانے کے بعد پوری دنیا میں کمیونسٹ پارٹیاں اس طرح اگ آئیں جس طرح بارش کے بعد نیم پہاڑی ریگستانوں میں سانپ کی چھتریاں اگ آتی ہیں۔ اس دور میں دنیا کی نجات صرف وار صرف سرخ خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد میں دیکھی جانے لگی تھی۔ اس طرح دنیا پھر ’’سرد جنگ‘‘ کی لپیٹ میں آگئی۔ پھر سرمائے دار اور سوشلٹ کیمپوں میں نہ ختم ہونے والے مباحثے شروع ہوگئے۔ دنیا کو ایٹمی اسلحے پر چاکلیٹ چباتی ہوئی بچی کی طرح دیکھا جانے لگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی پوری دنیا میں کمیونسٹوں کے خلاف پورپیگنڈا کرتے ہوئے کہتے رہے کہ ’’اگر اس دنیا میں امن اور خوشحالی لانی ہے تو ہمیں کمیونزم کے خلاف جمہوریت کا ساتھ دیتے ہوئے فیصلہ کن جنگ کرنی ہوگی‘‘ وہ جنگ بھی ہوئی اور جمہوریت کا پرچم پوری دنیا میں لہرایا گیا۔ مگر اس دنیا کو کیا حاصل ہوا؟ عوام کے دکھ تو ختم ہونے کے بجائے بڑھ گئے۔۔آج عالمی سطح پر جمہوریت کا راج ہے۔ مگر وہ جمہوریت ایسی ہے جیسے بھوکے کے سامنے لذیذ کھانے کی تصویر رکھی جائے۔ جمہوریت نے تیسری دنیا کے ممالک کو کیا دیا؟ سوائے ان منتخب حکومتوں کے جو آج بھی عسکری قوتوں کے اشاروں پر رقص کرتی ہیں۔ وہ جمہوریت جس کے لیے کہا گیا تھا کہ ’’عوام کی حکومت؛ عوام کے معرفت؛ عوام کے لیے‘‘ وہ جمہوریت صرف چند خاندانوں اور ان کے چمچوں کی خوشحالی کا ذریعہ بن گئی۔
جمہوریت کا تصور البرٹ موراویا کے ناول ’’وومن آف روم‘‘ کا وہ مرکزی کردار بن گیا جو اپنے آپ میں ساری لڑکیوں کو سماتا ہے اور آج جمہوریت ایک ایسی تھکی ہوئی طوائف بن گئی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں شکستہ جاموں پر ناچتے ناچتے اپنے پیروں کے سارے زخم بھلا چکی ہے۔ اور یہ اپنی ساری کشش کھو چکی ہے۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ اب اس بوڑھی طوائف کے پاس کچھ نہیں۔ اس تھکی ہوئی طوائف نے قدیم روم سے لیکر جدید دور تک بہت لمبا سفر کیا ہے۔ اس سفر میں اس نے اتنا کچھ پایا نہیں جتنا کہ کھویا ہے۔



















































