امام اعظمؒ کے بعض مخالفین ایسے تھے کہ جو مخلص تھے مگر اڑتی افواہوں اور سنی سنائی باتوں کی وجہ سے بدظن ہو گئے تھے۔ حدیث شریف میں ہے کہ آدمی کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتیں نقل کرتا پھرے۔
مشائخ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارے سامنے کوئی آدمی آ کر یہ کہے کہ فلاں آدمی نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے اور اس کی آنکھ واقعی پھوٹ چکی ہو تو بھی اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کو دیکھ نہ لینا، ہو سکتاہے کہ اس بندے نے اس کی دو آنکھیں پہلے پھوڑ دی ہوں۔
نیکوں کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے سوال کیاگیا کہ نیکوں کی محفل میں بیٹھنے سے فائدہ ہوتاہے، کیا نیکوں کے قریب قبر بنانے سے بھی فائدہ ہوتاہے۔ حالانکہ عمل تو اپنے اپنے ہوتے ہیں؟حضرت کو کوئی آدمی پنکھا کر رہا تھا۔ پوچھا ’’آپ کو ہوا آ رہی ہے؟‘‘اس نے کہا ’’ہاں۔‘‘فرمایا۔ ’’جس طرح پنکھا تو مجھے کررہا ہے مگر ساتھ والوں کو ہوا آ رہی ہے، اسی طرح نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی فائدہ ہوتاہے۔‘‘
دل کی نورانیت
حضرت خواجہ سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں نے عید کے روز حضرت معروف کرخی کو کھجوریں چنتے ہوئے دیکھا۔ میں نے عرض کیا ’’حضرت! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘فرمایا کہ ’’میں نے ایک لڑکے کو روتے ہوئے دیکھا، پوچھا تو کیوں روتا ہے؟اس نے کہا کہ میں یتیم ہوں،
آج اور لڑکے عمدہ عمدہ لباس پہنے ہوئے ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں۔ یہ کھجوریں بیچ کر اس بچے کو ایک جوڑا خرید کر دوں گا اور کچھ اشیائے خور و نوش بھی۔‘‘یہ سن کر میں نے عرض کیا ’’حضرت اس خدمت کی انجام دہی کی مجھے اجازت فرمائی جائے۔‘‘ چنانچہ میں اس لڑکے کو اپنے ہمراہ بازار لے گیا۔ ایک جوڑا کپڑا اور کچھ اخروٹ خرید کر دیے۔ وہ لڑکا خوش ہوگیا۔ اس پر میرے دل میں ایک نور پیدا ہوگیا اور میری حالت میں تبدیل ہو گئی۔
ریا کاری سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے
حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’حق تعالیٰ کی ستاری ہے، ورنہ میاں اگر ہمارے اترے پترے کھول دیں تو ایک بھی معتقد نہ رہے۔ یہ دین کی سمجھ والے ہیں۔‘‘یہ دین کی سمجھ والے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ والا اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ سے رکھتاہے اور حق تعالیٰ کی نظر سے اپنے اعمال کو پرکھتا ہے۔ اصل کسوٹی تو میاں کے پاس ہے۔
تمام مخلوق کی تعریف کرنے سے کیا ہوتاہے۔ جب وہ پسند فرما لیں تو وہ پسند کام آنے والی ہے اور ان کی پسند کا یقینی فیصلہ مرنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ لوگوں کی واہ گواہ تو آدمی کو واہی بنا دیتی ہے۔ لوگوں کی واہ واہ کا خواہاں نہ رہنا چاہیے۔ اپنی آہ سے اپنے اللہ کو خوش رکھنا چاہیے۔ اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ کرتے رہتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں۔



















































