اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

لکھنے میں کچھ بھول تو نہیں ہو گئی

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ مرو میں رہتے تھے۔ مرو خراسان کے شمال مغرب میں واقع ہے اور شام سے کوسوں دورہے۔ ایک مرتبہ اپنے وطن سے شام گئے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب نہ راستے اچھے تھے نہ تیز چلنے والی گاڑیاں تھیں۔ سفر کیا تھا، ایک مسلسل مصیبت۔ اس لیے سفر پر نکلنا بڑے دل گردے کی بات تھی۔ عبداللہ تاجر تھے، نرے تاجر ہی نہیں، بہت بڑے عالم بھی تھے۔

عالم ہونے کے ساتھ عمل کے بھی دھنی تھے۔ راتیں جاگ کر گزارتے تھے اور دن میں دین کی خدمت کرتے رہتے۔ جب اعلان جہاد ہوتا تو تلوار سونت کر میدان جنگ میں کود پڑتے۔ اللہ نے بہت کچھ دیا تھا۔ اس دولت کا پورا فائدہ اٹھاتے۔ یعنی بے دریغ اللہ کی راہ میں لٹاتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا ’’حضرت کچھ برے دن آئے ہیں، سخت پریشانی میں ہوں۔ قرض لے کر گھر کا خرچ چلاتا رہا ہوں۔ اب یہ بھی مشکل نظر آتا ہے،کیوں کہ قرض بہت بڑھ گیا ہے۔‘‘عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ نے فرمایا ’’کوئی بات نہیں، اللہ پر بھروسہ رکھو اور روزگار کی تلاش میں رہو، فی الحال میرا یہ پرچہ لے جاؤ اور میرے منشی کو دے دینا۔‘‘وہ صاحب پرچہ لے کر منشی کے پاس پہنچے، اسے پرچہ دیا۔ اس نے پرچہ کھولا تو دیکھا کہ اس میں خاصی بڑی رقم دینے کی ہدایت تھی۔ منشی نے ویسے ہی پوچھا ’’کیوں جناب! کتنی رقم کی ضرورت ہے؟‘‘اس اللہ کے نیک بندے نے کہا۔ ’’سات سو درہم کا قرض ہے۔ اس کا ذکر میں نے عبداللہ بن مبارک سے کیا تھا۔ کیا انہوں نے یہ رقم دینے کے لیے لکھا ہے۔‘‘اس نے کہا ’’ہاں،مگر تم ذرا میرا یہ پرچہ انہیں لے جا کر دینا۔ تمہیں رقم مل جائے گی۔‘‘وہ پریشان حال اللہ کا بندہ منشی کا پرچہ لے کر پھر ابن مبارکؒ کے پاس پہنچا۔

بڑی تکلیف ہوئی، کیونکہ منشی نے پوچھا تھا ’’یہ شخص سات سو درہم کا مقروض ہے، آپ نے اسے سات ہزار درہم دینے کو کہا ہے، لکھنے میں کچھ بھول تو نہیں ہو گئی۔‘‘عبداللہ بن مبارک بہت بڑے محدث تھے۔ انہیں تو آنحضرتؐ کی ایک ایک بات یاد تھی۔ جو رزق اللہ نے دیا تھا وہ ان میں سے بڑی رقم اللہ کے ضرورت مندوں پر خرچ کرنا چاہتے تھے، انہیں منشی کی باریک بینی اچھی معلوم نہ ہوئی۔

جواب میں اسے لکھا ’’میری تحریر ملتے ہی اس شخص کو چودہ ہزار درہم دے دو۔ انتظار مت کرو، میں نے سات ہزار پیش کیے تھے، ظالم تو نے میری لذت ایمانی کو مول تول کی نذر کر دیا۔ اب اسے معلوم ہے سات ہزار ملیں گے، اس لیے اسے چودہ ہزار دو۔ یہ رقم اس کے لیے غیر متوقع ہو گی۔ اللہ کے نبیؐ کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو اچانک خوش کر دے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جو کچھ اس نے اللہ کی راہ میں دیا ہے اس سے کہیں بڑھ کر دیاجائے گا۔

اس میں ذرا کمی نہ ہوگی۔‘‘یہی عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ اپنے وطن مرو سے کئی سو میل کا سفر کرکے شام گئے اور وہاں سے لوٹے تو مرو پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس کسی کا ایک قلم رہ گیا ہے۔ فوراً یاد آیا کہ یہ تو انہوں نے شام میں ایک شخص سے تھوڑی دیر کے لیے لے لیا تھا۔ معمولی قلم تھا، اس کی کوئی اہمیت نہ تھی، لیکن اللہ سے ڈرنے والے عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ کے لیے یہ امانت لوٹانے کا مسئلہ تھا۔

فوراً سامان سفر درست کیا اور دوبارہ شام کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ مہینوں کی راہ چل کر وہاں پہنچے۔ اس شخص کو ڈھونڈا، وہ مل گیا تو قلم اس کے حوالے کرکے معذرت کی کہ لوٹانے میں دیر ہوئی، غلطی سے یہ میرے ساتھ مرو چلا گیاتھا۔اس شخص نے قلم واپس لے لیا تو عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے مجھے خیانت سے بچا لیا۔ حالانکہ وہ قلم معمولی حیثیت کا تھا۔ سورۃ النساء میں قادر مطلق کا ارشاد ہے۔ ’’مسلمانو! اللہ رب العزت تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کر دو۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…