میں نے حضرت ڈاکٹر عبدالحئی رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ واقعہ سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ بیمار ہوئے۔ اس دوران ایک صاحب نے آپ کو پینے کے لیے دودھ لا کر دیا۔ آپؒ نے وہ دودھ پیااور تھوڑا سا بچ گیا۔ وہ بچا ہوا دودھ آپ نے سرہانے کی طرف رکھ دیا۔ اتنے میں آپؒ کی آنکھ لگ گئی۔
جب بیدار ہوئے تو ایک صاحب جوع پاس کھڑے تھے ان سے پوچھا کہ ’’بھائی وہ تھوڑا سا دودھ بچ گیا تھا، وہ کہاں گیا؟‘‘تو ان صاحب نے کہا کہ ’’حضرت وہ تو پھینک دیا۔ ایک گھونٹ ہی تھا۔‘‘حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’تم نے اللہ کی اس نعمت کو پھینک دیا۔ تم نے بہت غلط کام کیا۔ اگر میں اس دودھ کو نہیں پی سکا تو تم خود پی لیتے۔ کسی اور کو پلا دیتے یا بلی کو پلا دیتے، یا طوطے کو پلا دیتے۔ اللہ کی کسی مخلوق کے کام آ جاتا، تم نے اس کو کیوں پھینکا؟‘‘ پھر ایک اصول بیان فرما دیا کہ ’’جن چیزوں کی زیادہ مقدار سے انسان اپنی عام زندگی میں فائدہ اٹھاتا ہے ان کی تھوڑی مقدار کی قدر اور تعظیم اس کے ذمہ واجب ہے۔‘‘مثلاً کھانے کی بڑی مقدار کو انسان کھاتاہے، اس سے اپنی بھوک مٹاتا ہے۔ اپنی ضرورت پوری کرتاہے، لیکن اگر اسی کھانے کا تھوڑا حصہ بچ جائے تو اس کا احترام اور توقیر بھی اس کے ذمہ واجب ہے۔ اس کو ضائع کرنا جائز نہیں۔ یہ اصل (ضابطہ) بھی درحقیقت اسی حدیث سے ماخوذ ہے کہ اللہ کے رزق کی ناقدری مت کرو، اس کو کسی نہ کسی مصرف میں لے آؤ۔
انسان کو کن چیزوں سے پست کیاگیا
عبیداللہ بن عائشہ کی روایت ہے کہ سفیان بن عینیہؒ نے فرمایا کہ ’’اگر ابن آدم کو اللہ تعالیٰ تین تباہ کن چیزوں کے ذریعے پست نہ فرماتے تو ان کا تکبر و فساد سے حد سے زیادہ بڑھ جاتا اور کوئی چیز ان کا شر برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتی۔ افسوس کہ انسان ان تباہ کن چیزوں میں مبتلا ہونے کے باوجود شر و فساد کے میدان میں چھلانگیں لگاتا رہتاہے۔ سرکشی اور شر انسانی کو دبانے والی وہ تباہ کن تین چیزیں یہ ہیں۔
(1) فقر و افلاس (2) امراض (3) موت۔‘‘اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے، فساد سے، سرکشی سے اور ان اعمال سے بچائے جو اللہ عزو جل کی ناراضگی اور غضب کے موجب ہیں۔ اور ان اعمال کی توفیق نصیب فرمائیں جو سعادتِ دارین کے اسباب ہیں۔ آمین۔
ایمان کے سلب ہونے کا ذریعہ
ابوبکرؒ الوراق فرماتے ہیں کہ بندوں پر ظلم کرنا اکثر سلب ایمان کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ابو القاسم حکیمؒ سے کسی نے پوچھا کہ کوئی گناہ ایسابھی ہے جو بندے کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے۔ فرمایا، ہاں تین چیزیں ہیں جو آدمی کو ایمان سے محروم کر دیتی ہیں۔-1 پہلی نعمت ایمان پر شکر نہ کرنا۔-2 دوسری اسلام کے جاتے رہنے کا کوئی خوف و خطر محسوس نہ کرنا۔-3 اور تیسری اہل اسلام پر ظلم کرنا۔



















































