ایک شخص نے خواب میں حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے پڑوسی لوہار کو بھی دیکھا کہ اسے بھی وہی درجہ مل گیاہے جو حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کا تھا۔ پردہ میں جا کر لوہار کی بیوی سے پوچھا کہ ’’کیا تیرا شوہر ایک عام مسلمان نہ تھا؟‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’تھا تو ایک عام مسلمان، مگر وہ دو خاص عمل کرتاتھا۔
ایک خاص عمل یہ تھا کہ لوہا کوٹتے ہوئے اگر ہتھوڑا اوپر اٹھا ہوتاتھا اور اذان کی آواز سنتا تھا تو وہیں نیچے پھینک دیتا اور نماز کے لیے اتنی سی بھی دیر گوارا نہ کرتا کہ لوہے کو ایک اٹھی ہوئی چوٹ ہی لگا دے۔ دوسرا عمل یہ کہ رات کو بچوں کے ساتھ چھت پر سوتے اور آہ بھرتے تھے کہ اگر میں تھکا نہ ہوتاتو میں بھی عبداللہ بن مبارکؒ کی طرح عبادت کرتا۔‘‘یہ حضرت انہیں جنت میں حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے مقام تک پہنچا گئی۔ یہ حسرت و تمنا بڑی چیز ہے،نیکی کی حسرت رکھنا بھی بڑی کام کی چیز ہے۔یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم تیری تمنا میں جئیں۔۔لطیف منزل نہ سہی خواہش منزل ہی سہی۔
خیالات سے گھبرائیں مت
حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ ’’حضرت! میں بہت پریشان ہوں، اس لیے کہ میری نمازیں کسی کام کی نہیں، جب میں سجدہ کرتاہوں تو اس وقت دماغ میں ایسے شہوانی اور نفسانی خیالات کا ہجوم ہوتاہے کہ الامان، تو وہ میرا سجدہ کیا ہوا؟ وہ تو ویسے ہی ٹکریں مارنا ہوا۔ میں تو بہت پریشان ہوں کہ کس طرح اس مصیبت سے نجات پاؤں۔‘‘ہمارے حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’تم یہ جو سجدہ کرتے ہو تمہارے خیال میں یہ کیسا سجدہ ہے؟‘‘
اس نے کہا کہ ’’حضرت! بڑا ناپاک اور بڑا گندہ سجدہ ہے۔ اس لیے کہ اس میں ناپاک اور گندے شہوانی خیالات آتے ہیں۔‘‘ حضرت نے فرمایا کہ ’’یہ ناپاک اور گندہ سجدہ تو اللہ میاں کو نہیں کرنا چاہیے، اچھا ایسا کرو کہ تم یہ ناپاک سجدہ مجھے کر لو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو بہت پاکیزہ اور اعلیٰ قسم کا سجدہ ہوناچاہیے اور یہ ناپاک سجدہ ہے، یہ مجھ ناپاک کے سامنے کرو گے۔‘‘
وہ صاحب کہنے لگے ’’توبہ توبہ! آپ کے سامنے کیسے سجدہ کر لوں؟‘‘حضرت نے فرمایا کہ ’’بس اس سے پتہ چلا کہ یہ سجدہ اسی ذات کے لیے ہے، یہ پیشانی کسی اور کے سامنے جھک نہیں سکتی، اس سجدہ میں کیسے ہی گندے، شہوانی اور نفسانی خیالات کیوں نہ آ رہے ہوں، لیکن یہ پیشانی اگر جھکے گی تو اسی کے در پر جھکے گی۔ لہٰذا یہ سجدہ اسی اللہ کے لیے ہے، اور اگریہ فاسد خیالات غیر اختیاری طور پر آ رہے ہیں تو انشاء اللہ یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں معاف ہیں۔‘‘



















































