حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ’’جو شخص کثرت سے مسجد میں جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سات باتوں میں سے ایک بات عنایت فرماتا ہے:-1 اللہ تعالیٰ کوئی ایساشخص ملاتا ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں استفادہ ہو۔-2 اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہوتی ہے۔-3 اللہ تعالیٰ اسے علم عجوبہ عطا فرماتا ہے۔
-4 کوئی بات ایسی اس میں آ جاتی ہے کہ وہ جادۂ حق کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔-5 اللہ تعالیٰ اسے برائی سے محفوظ کر دیتا ہے۔-6 اللہ تعالیٰ اسے گناہوں سے محفوظ کر لیتا ہے۔-7 اللہ تعالیٰ اس میں اپنا خوف پیدا کر دیتاہے۔پس کثرت سے نیات کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ اسی پر تمام طاعات و مباحات کو قیاس کر لینا چاہیے۔ اس لیے کہ کوئی طاعت ایسی نہیں جو بہت سی نیات کی متحمل نہ ہو۔ مومن بندہ کے دل میں اسی قدر آتی ہے جس قدر کہ وہ طلب خیر میں جدوجہد اور فکر کرتاہے۔
تعویذوں سے اولاد نہیں ہوتی
فرمایا آج کل تعویذ گنڈوں کے بارے میں عوام کے عقائد میں بہت لغو ہو گیا ہے۔ خصوصاً دیہاتی لوگ تو ہر مرض کو آسیب ہی سمجھتے ہیں۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ میری اولاد نہیں ہوتی، تعویذ دے دو۔ میں نے کہا کہ اگر تعویذ سے اولاد ہوا کرتی تو کم از کم میرے ایک درجن اولاد ہوتی، حالانکہ ایک بھی نہیں۔ میں ان تعویذوں سے بڑا گھبراتا ہوں۔ ایک پہلوان نے بمبئی سے خط لکھا کہ کشتی کے لیے ایک تعویذ دے دو تاکہ میں غالب رہا مولانا نے لکھا کہ اگر دوسرا بھی ایسا ہی تعویذ لکھوا لے تو پھر تعویذوں میں کشتی ہو گی۔
اگر عوام کے عقائد کی یہی حالت رہی اور تعویذوں کی یہی رفتار رہی تو شاید چند روز میں لوگوں کے ذہن میں نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔ اس لیے کہ نکاح میں تو بکھیڑا ہے۔ وقت صرف ہوتاہے، قسم قسم کی کوشش میں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ مال صرف ہوتا ہے۔ نان و نفقہ لازم ہوتاہے۔ غرض بڑے بکھیڑے ہیں۔ یہ درخواست کیا کریں گے کہ ایسا تعویذ دے دو کہ عورت کے بغیر اولاد ہو جایا کرے۔
بھلا کس طرح اولاد ہو جایا کرے گی۔آدم علیہ السلام کی پسلی سے تو حضرت حوا پیدا ہو گئیں۔ مگر پھر ایسا نہیں ہوا۔ اور اب یہ چاہتے ہیں کہ خلاف معمول اولاد پیدا ہو جایا کرے۔ اگر میں تعویذ پر پانچ روپیہ مقرر کر دوں تو پھر کوئی ایک بھی تعویذ نہ مانگے۔



















































