اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بکھرتے گھر

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

وہ ایک مذہبی رحجان رکھنے والے قدامت پرست خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ کم وبیش دس برس پہلے جب وہ پہلی بار سیلانی سے ملی تھی تب اس کی آنکھیں ہی جسم کا وہ واحد حصہ تھیں جو دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے ہاتھوں پر بھی دستانے پہن رکھے تھے، جسم پر بڑا سا عبایا اور چہرہ مکمل حجاب میں چھپا ہوا تھا، اس وقت اسے اپنے گھر سے صدر کا راستہ بھی نہیں معلوم تھا۔

وہ صرف اس راستے سے واقف تھی جو اسے اس پرائیویٹ اسکول تک لے جاتا تھا جہاں وہ معمولی سی تنخواہ پر پڑھاتی تھی۔ وہ موسموں کی شدت اور اوباش لوگوں کی نظریں برداشت کرتے ہوئے پیدل اسکول پہنچتی تو اس کے جوتے گرد میں اٹ چکے ہوتے تھے۔ اس کی ساتھی ٹیچرز کہتی بھی تھیں کہ اسکول وین لگوا لو، لیکن وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کردیتی، اب وہ انہیں کیسے کہتی کہ ایک ہزار روپے اسکول وین والے کو دے دوں تو کتنی ہی ضرورتیں ڈائن بن کر سامنے کھڑی ہو جائیں۔ وہ مشکل ترین حالات سے گزر رہی تھی، شوہر نکھٹو اور ان پڑھ تھا، اس کی واحد خوبی جس کی وجہ سے وہ اس کا سرتاج بنا تھا، اس کا خاندان برادری کا ہونا تھا۔ اس نے سر پر اوڑھنی لی تو اس کا رشتہ آگیا، ماں باپ نے بنا کچھ سوچے سمجھے ہاں کر دی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہ سوچا کہ ان کی بیٹی بہرحال دس جماعتیں پاس ہے، سگھڑ سلیقہ شعار ہے، ابھی اس کی عمر بھی نہیں گزری جا رہی، کسی مناسب رشتے کا انتظار کیا جاسکتا تھا لیکن تعلیم دیکھی گئی نہ اخلاق اور نہ ہی کردار۔ اسے ایک دیہاڑی دار نکھٹو کے پلے باندھ دیا جو کبھی کبھار ہی کام پر جاتا اور اکثر چارپائی توڑتا رہتا۔ وہ شوہر کے لیے صرف جنسی تسکین پہنچانے کا ایک ذریعہ تھی۔ یہ اس کے شوہر کا حق تھا اور وہ اپنے فرائض سے پہلوتہی کر کے حق وصول کرتا رہتا۔ شادی کے کچھ ہی برسوں میں اوپر تلے بچے بھی ہوگئے لیکن شوہر کو ایک باپ ہونا یاد نہ آیا۔

شوہر کا فرض بھی اسی کی ذمہ داری بن گئی کہ وہ روتے بلکتے بچوں کے لیے اپنی چھاتی سے دودھ اتارے، ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ ماں باپ کو بیٹی کا حال پتہ تھا، وہ اس کی گاہے بگاہے مدد کر دیتے، کبھی مکان کا کرایہ دے دیا اور کبھی راشن ڈال دیا، کبھی عید تہوار پر بچوں کے لیے کپڑے صبرشکر کی تلقین کے ساتھ لے آئے، کبھی امید بندھا دی کہ جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا اور کبھی مولوی صاحب کے دم کیے ہوئے پانی کی بوتل شوہر کو پلانے کے لیے لے آئے لیکن جب مولوی صاحب کا پانی، ان کی نصیحتیں، بچوں کا رونا بلکنا بھی ان کے داماد کو نہ سدھار سکا تو وہ مجبوراً بیٹی کو اپنے گھر لے آئے۔ ماں باپ کے گھر میں اس کی معاشی مشکلات قدرے کم ہوگئیں پر زندگی میں صرف کھانا اور پینا ہی تو نہیں ہوتا اور بھی ضروریات ہوتی ہیں۔ ان ضروریات کے لیے اسے ایک پرائیوٹ اسکول میں ملازمت کی بمشکل اجازت ملی تھی، اس کی زندگی بچوں اور اسکول تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ ان کے لیے جی رہی تھی کہ انہیں کسی قابل بنا سکے۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے جب اس نے پہلی بار اپنی دوست کے سیل فون سے سیلانی سے بات کی اور ایک مسئلے میں مدد چاہی، اس کا کہنا تھا کہ سیلانی ان کے اسکول آجائے اور سیلانی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آنا مشکل ہے وہ ہی دفتر آنے کی زحمت کرے۔ سیلانی نے اسے ’’امت‘‘ کے دفتر کا پتہ سمجھانا چاہا تو اس نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ اسے صدر کا راستہ تک نہیں معلوم، نہیں جانتی کہ کون سی بس صدر آتی جاتی ہے۔

آج وہی خاتون سات سمندر پار سے سیلانی کو کال کر رہی تھی اور بتا رہی تھی کہ وہ جلد ہی گرین کارڈ بھی لے لے گی، وہ فی الوقت ایک امریکی گورے کے ساتھ ’’سوشل کنٹریکٹ‘‘ پر رہ رہی ہے، لیکن جلد ہی شادی کا ارادہ ہے۔ اس کا امریکی بوائے فرینڈ بہت اچھا اور ٹھنڈے مزاج کا ہے، وہ اس کا بہت خیال رکھتا ہے۔ کراچی کی ایک مضافاتی بستی سے گوروں کے دیس تک کے سفر کے پیچھے اس کی ایک طویل داستان ہے۔ اس داستان میں گھر والوں کے بدلتے رویے، اس کی ذات کی نفی، اہل خانہ کی عدم توجہی کے ساتھ طویل معاشی جدوجہد میں مردوں کے ساتھ نے اسے بہت bold بنا دیا تھا۔ پھر مذہب، معاشرے، روایات، اقدار سے بغاوت نے اسے کچھ بھی کرنے پر آمادہ کر دیا۔ وہ چھوئی موئی سی شرمیلی عورت نہیں رہی تھی۔ اس کی ساری زندگی تنگدستی میں گزری تھی، اس لیے اس کے نزدیک پرآسائش زندگی ہی سب کچھ تھا، اس زندگی کے لیے اس نے وہ سب کچھ کیا جو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ یہ کیا کم تھا کہ وہ ان دنوں ایک غیر مذہب کے شخص کے ساتھ ایک بیوی کی طرح رہ رہی تھی۔ کراچی سے سات سمندر پار کے اس سفر کے پیچھے اسباب کچھ بھی ہوں، اس کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب اس کے ماں باپ نے اس کا جوڑ ایک ان پڑھ، جاہل اور نکھٹو شخص سے ملایا۔ یہ دوسری کہانی بھی کراچی ہی کی ہے۔ یہ لڑکی کراچی یونیورسٹی کی گریجویٹ اور پڑھے لکھے مڈل کلاس گھر سے تعلق رکھتی ہے۔

ماں باپ نے اس کی مرضی جانے بغیر اس کی شادی رشتہ داروں میں کر دی۔ لڑکا مالی لحاظ سے ذرا کمزور لیکن اچھا پڑھا لکھا اور وجیہہ تھا، ملازمت بھی مناسب تھی۔ یہ شادی بمشکل چھ سے سات ماہ ہی چل سکی۔ لڑکی ناراض ہو کر ماں باپ کے گھر چلی آئی، اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر عجیب دیہاتی مزاج کا ہے، حاکمانہ طبیعت رکھتا ہے، میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا۔ لڑکی نے یہ سب کچھ محض کہا ہی نہیں عمل بھی کیا اور خلع لے لی۔ ایسی کئی کہانیاں ہمارے آس پاس بکھری ہوئی ہیں، باوجود ناپسندیدہ ہونے کے طلاق اور خلع کی شرح تیزی سے اوپر اٹھ رہی ہے۔ سیلانی کو اس طرح کی بہت سی سچی کہانیاں، افسوسناک واقعات ایک کے بعد ایک کر کے یاد آ رہے ہیں، گھر غریب کا ہو یا امیرکا، بہن بھائیوں بچوں کی شادی ایک مسئلہ رہا ہے، کتنے ہی جتن کے بعد کہیں جا کر گھر بنتے ہیں اور تباہ ہونے میں وقت کتنا لگتا ہے؟ ان دو واقعات نے سیلانی کو اپنے اردگرد طلاق، خلع کی شرح کی کھوج پر لگا دیا اور پھر ان خوفناک اعدادوشمار تک پہنچنے میں اسے زیادہ د قت نہیں ہوئی۔ ایک دوست کے توسط سے سیلانی کو پتہ چلا کہ صرف کراچی میں 2016ء کے دوران طلاق، خلع، بچوں کی حوالگی اور جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے 10059 مقدمات عدالتوں میں درج ہوئے جبکہ 2015ء میں اس نوعیت کے مقدمات کی تعداد 9200 تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…