کھاؤں کھاؤں کھاؤں ………. ویران سی اس کٹیا میں رات کے پچھلے پہر پھیلے ہوئے اس سناٹے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی ماں کی کھانسی کی آواز توڑ دیتی تھی… اور وه خاموشی سے کٹیا کی ٹوٹی ہوئی چھت سے باہر پھیلے ہوئے گھپ اندھیرے کو تکے جا رہا تھا…. نیند کی شدت کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے مرچیں کوٹ کوٹ کے اس کی آنکھوں میں بھر دی ہوں …
لیکن پیٹ کی بھوک اسے سونے نہیں دے رہی تھی… وه سونا چاہتا تھا لیکن جاگنے پہ مجبور تھا… 2 دن سے خالی پیٹ اس کی ہزار کوشش کے باوجود اسے سونے کی اجازت نہیں دے رہا تھا…. گیاره سالا فیقا شہر کے ایک بڑے چوک میں بڑی بڑی گاڑیوں کے شیشے صاف کیا کرتا تھا جس کے بدلے میں اسے گالیوں اور دھکوں کے علاوه کبھی کبھی کسی سے پانچ دس روپے بھی مل جاتے تھے اور سارے دن کے پیسے ملا کر وه شام کو کھانا اور بیمار ماں کے لئے ایک ڈسپنسر کی لکھی گئی سستی دوائی بھی لے کر جاتا تھا مگر دو دن سے وه بیماری اور درد سے تڑپتی ماں کے سرہانے سے الگ نہیں ہو سکا تھا ، کمائی کیسے کرتا….. جو بچے کھچے کھانے کے ٹکڑے تھے وه اس نے ماں کو کھلا دیے تھے لیکن خود کچھ بھی کھائے بغیر ماں کے سرہانے بیٹھا انجانے سے خدا سے ماں کے ٹھیک ہو جانے کی دعائیں مانگ رہا تھا.. اس خدا سے جس کے متعلق وه کچھ بھی نہیں جانتا تھا , بس ایک دفعہ ماں نے اس سے کہا تھا کہ ” پتر جب بھی کوئی مسلۂ ہو الله کو بتایا کر , اس سے مانگا کر , وه مجھ سے بھی زیاده پیار کرتا ہے تجھ سے ” ماں کی یہ بات اس کے معصوم اور کچے ذہن پہ نقش ہو گئی تھی… اب جب بھی ماں کو درد ہوتا یا کھانسی کا دوره پڑتا , یا اسے کسی بھی گاڑی والے سے پیسے نہ مل رہے ہوتے , وه آہستہ سے الله کو بتاتا اور اس سے کہتا کے وه اس کی مدد کرے…
کبھی کبھی تو اس کا مسلۂ حل ہو جاتا لیکن کبھی کبھی مشکل دور نہ ہوتی تو وه خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ شائد الله جی مصروف ہوں گے جس طرح بچپن میں کبھی کبھی اس کی ماں بھی اس کے بار بار بلانے کے باوجود کسی کام کی وجہ سے اس کے پاس نہیں آ پاتی تھی لیکن اس دفعہ تو شائد الله جی زیاده ہی مصروف تھے کے دو دن سے سن ہی نہیں رہے تھے وه ماں سے دور نہیں ہو رہا تھا کل سے , اسے ڈر لگتا تھا کہ پتا نہیں کیا ہو جائے ماں کو اس کے بغیر…. اسی وجہ سے وه کام کے لئے بھی نہیں جا سکا تھا مگر اب بھوک اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی… گدلی آنکھوں سے نمکین پانی بھی نہیں بہہ رہا تھا اب تو….. رات کی کالی چادر میں صبح کی سفیدی کا داغ لگنا شروع ہو گیا تھا… اس نے اپنے نقاہت بھرے وجود کو سمیٹ کر قدموں پہ کھڑا ہونے کی کوشش کی لیکن لڑکھڑا کر نیچے گر گیا ، بائیں پہلو پہ گرتے ہوئے اسے اپنے بائیں بازو میں درد کا جھٹکا سا لگا اور بہت دیر سے رکا ہوا نمکین پانی آنکھوں سے رواں ہو گیا.. پانچ منٹ تک وہیں گرے رہنے کے بعد اس نے دوسری کوشش کی اور کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا…. اس نے اپنا گندا سا کپڑااور چھوٹی سی بالٹی اٹھائی اور گلی میں نکل گیا ، شہر کے بڑے چوک کی طرف جاتے ہوئے اس نے راستے میں لگے میونسپل کے نل سے سے کپڑے کو اچھی طرح دھو کر صاف کرنے کی کوشش کی تھی اور دوسرے ہاتھ میں موجود چھوٹی سی بالٹی میں پانی بھی بھر لیا تھا….
اسے چوک میں کھڑے ہوئے دو گھنٹے ہو رہے تھے بے شمار گالیوں اور دھکوں کے ساتھ اسے دو گاڑی والوں سے دس دس روپے بھی ملے تھے.. وہ چاہتا تھا دو، تین اور گاڑی والوں سے پیسے مل جائیں تو وہ کچھ کھانے کو لے کر گھر چلا جائے ماں کے پاس ، پتا نہیں ماں کتنی تکلیف میں ہو گی… اشارہ بند ہوا توگاڑیوں کی لمبی قطار لگ گئی سڑک پہ… اس نے گاڑیوں کے آگے والے شیشے پہ کپڑا پھیرنا شروع مگر صرف گالیاں ہی مل رہی تھیں جواب میں.. وہ قطار کی پچھلی سائیڈ کی طرف چلتا جا رہا تھا ہر گاڑی والے سے گالیاں کھاتا ہوا…. بہت سی گاڑیوں کو کراس کر کے وہ ایک بڑی سی گاڑی کے قریب پہنچ گیا، گاڑی کی اگلی سیٹ پہ ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا لیکن اس کی نظریں پچھلی سیٹ پہ جمی ہوئی تھیں، جہاں ایک ماڈرن ادھیڑ عمر عورت بیٹھی ہوئی تھی اور اس کی گود میں ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کتا بیٹھا دودھ پی رہا تھا اور وہ عورت اسے اپنے دائیں طرف سیٹ پہ رکھے ہوئے بسکٹوں کے پیکٹ سے بسکٹ نکال نکال کے اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی… فیقا بھیک نہیں مانگتا تھا لیکن اس وقت اس کا دل کیا کے وہ اس سے کچھ کھانے کو مانگ لے ، جو کتے کو کھلا رہی ہے وہ انسان کو ضرور کھانے کو دے گی ، کتے کو کھلانے والی انسان کو بھوکا کیسے مار سکتی ہے… اس نے بالٹی سے کپڑا نکال لیا تھا فرنٹ شیشے پہ پھیرنے کے لئے لیکن اس نے کپڑا واپس بالٹی میں ڈالا اور پچھلی سیٹ کے شیشے پہ جا کے اس عورت سے کچھ کھانے کے لئے مانگا ،
” کچھ کھانے کو دے دو میم صاحب ، میں دو دن سے بھوکا ہوں ” صاف ستھرے کتے کو اپنے ہاتھوں سے بسکٹ کھلاتی اس عورت نے نفرت اور نخوت سے کھڑکی سے باہر کھڑے اس دس بارہ سالہ گندے سے بچے کو دیکھا ، بچے پہ نظر پڑتے ہی اس کے اندر حقارت کی لہر سی دوڑ گئی ، اس نے نفرت سے منہ پھیر لیا اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو وہاں سے دفع ہو جانے کا اشارہ بھی کر دیا ، لیکن وہ ڈھیٹ بچہ وہاں سے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آ رہا تھا اور مسلسل کچھ کھانے کو مانگے جا رہا تھا ، اس نے غصے سے اس کی طرف دوبارہ دیکھا ، تھوڑا سا شیشہ نیچے کر کے اس نے اس کو دو تین گالیاں دیں اور وہاں سے دفع ہو جانے کو کہا اور ناک پہ ہاتھ رکھتے ہوئے جلدی سے شیشہ بند کر لیا…. مگر وہ بچہ تو وہاں سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھا شاید ، وہ کھڑکی سے لگا مسلسل صدا دیے جا رہا تھا ، عورت کا غصہ اب اپنے عروج پہ پہنچ گیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتی اشارہ کھل گیا اور اس کے ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی…. فیقے نے گاڑی کو آگے بڑھتے دیکھا تو دکھ کی شدت سے اس کے دل میں بڑی عجیب خویش جاگی ، اس کا دل چاہا کہ وہ کتا بن جائے ، اسے اپنے انسان ہونے پہ افسوس ہو رہا تھا ، وہ الله جی سے کہ رہا تھا کہ وہ انسان کیوں بنا ، وہ کسی کتے کا بچہ کیوں نہیں بنا… اس نے گاڑی کو آگے بڑھتے دیکھا اور پھر اس گاڑی کے اشارہ کراس کرنے سے پہلے ہی دوبارہ اشارہ بند ہو گیا اور گاڑی دوبارہ رک گئی…
فیقے سے یہ ذلت برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ کتے کو کھلانے والی نے اسے دھتکار دیا ہے ، وہ بھاگتا ہوا دوبارہ گاڑی کے پاس پہنچ گیا اور پھر کھڑکی پہ دستک کے ساتھ کھانے کی صدا دی ، اس دفعہ اس کی صدا میں شدت تھی…. اس عورت کا غصہ ابھی پوری طرح کم بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے پھر سے اس بچے کو کھڑکی پہ دستک دیتے دیکھا تو اس کا دماغ غصے کی شدت سے بھک سے اڑ گیا…. فیقا اب دونوں اطراف کی سڑکوں کے درمیان پتلی سی اینٹ کی پٹی پہ کھڑا تھا…. اس کی نظریں اس عورت پہ جمی ہوئی تھیں ، پھر اس نے عورت کو غصے سے گاڑی کا دروازہ کھول کے نیچے اترتے دیکھا تو وہ ڈر کے پیچھے ہٹا اور اس پٹی سے اتر کے دوسری سڑک پہ جا کھڑا ہوا…. عورت نے گاڑی سے نکلتے ہوئے بچے کو ڈر کے پیچھے ہٹتے دیکھا تو اس بات نے اس کے طیش اور نفرت کو مزید ہوا دی… “ذلیل ، کمینے میرے کتے کے حصے کا کھانا کھائے گا تو ” گالیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ ہی اس صحت مندعورت نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ فیقے کے منہ پہ جڑ دیا… گیارہ سالہ فیقا غصے ، نفرت اور پوری طاقت کے ساتھ مارے گئے اس تھپڑ کو سہنے کی کوشش میں لڑکھڑاتا ہوا کئی قدم پیچھے ہٹا اور نیچے گرنے لگا لیکن وہ نیچے گر نہیں سکا… بائیں طرف سے آتی اس تیز رفتار گاڑی کے ڈرائیور نے اچانک اپنی گاڑی کے آگے ایک گندے سے جسم کو ہوا میں اچھلتے دیکھ کر پوری طاقت سے بریک لگائے
لیکن گاڑی کے اگلے دو ٹائر چر چر کرتے رکنے کی کوشش میں اس نازک بدن کو کچلتے ہوئے گزر گئے…. گاڑی سے اترتے اس شخص کی نظر اپنی گاڑی کے نیچے تیزی سے پھیلتے خون پہ پڑی…. اس نے نیچے جھک کے دیکھا تو گاڑی کے اگلے اور پچھلے پہیوں کے درمیان کسی بچے کا گندا ، بے جان وجود نظر آیا… جس کی ادھ کھلی آنکھوں میں سے سے کرب اور اذیت کے احساس کے علاوہ بے شمار سوال جھانک رہے تھے.. فیقے کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں نظر آ رہی تھی ، وہ جا چکا تھا…. الله جی کے پاس، شاید یہ پوچھنے کہ وہ اتنے مصروف کیوں ہو گئے کے اس کی بات ہی نہیں سن رہے دو دن سے….. فیقا جا چکا تھا ، انسان ہونے پہ افسوس کرنے والا ، کتے کا بچہ ہونے کی خواہش کرنے والا فیقا جا چکا تھا… ہاں فیقا جا چکا تھا لیکن سامنے کسی انقلابی پارٹی کے بینر پہ لکھے شعر جگمگا رہے تھے
عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں



















































