اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

مردہ انسانیت

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

ادھڑی ہوئی سڑک کے ساتھ بنے ہوئے تنگ سے کچے راستے پر ہچکولے کھاتی میری گاڑی سست روی سے رواں تھی، جہاں چاروں طرف گردوغبار کے بادل اڑ رہے تھے ۔ مجھے ایک ضروری کام کے سلسلہ میں قریبی شہر پہنچنا تھا مگر سڑک کے پھٹے ہوئے سینے پر جا بجا لگے روڑی کے ڈھیروں اور کچے راستے نے میرے لئے مشکلات پیدا کر دی تھیں۔

تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مزدوروں کے گروپ جھلسا دینے والی گرمی کو مات دے کر اپنے کام میں جتے حوصلوں کی داستانیں رقم کر رہے تھے کہ اچانک میری نظر دائیں طرف جا پڑی۔ ایک معصوم بچی درخت کے سائے میں لیٹی ہوئی تھی۔ جس کے وجود پر ایک میلی سی چادر شاید اسے گرد مٹی سے بچانے کے لئے ڈالی گئی تھی جو آدھی سے زیادہ ڈھلکی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس معصوم کی ابتر حالت دیکھ کر مجھے کار کے اندر کی ٹھنڈک ڈسنے لگی۔ کچھ ہی فاصلے پر تارکول سے چمکتی سڑک کے سینے پر بلڈوزر رینگ رہا تھا اور کچھ مزدورجن میں ایک عورت بھی شامل تھی، پھاوڑے سے سڑک پر سیاہ رال بچھانے میں مصروف تھے۔ میں نے ان پر سرسری سی نگاہ ڈال کر گاڑی ایک طرف کھڑی کردی ۔ اپنے ساتھ رکھے بیگ میں کچھ کھانے پینے کا سامان اور پانی کی ایک بوتل نکال کے باہر نکلا تو گرم لوکے تھپیڑوں اور تارکول کی سڑی ہوئی باس نے میرے حوصلوں پر حملہ کر دیا مگر میں بچی کی طرف بڑھ گیا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر سوئی پڑی تھی۔ ’’ اے چھورا…رک جا‘‘ اچانک چیختی ہوئی ایک نسوانی آوا ز نے میری سماعتوں میں گھس کر میرے بڑھتے قدم جکڑ لئے۔ ’’دور ہٹ جا چھوری سے…‘‘مزدور عورت کام چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتی میرے قریب آتے ہوئے بولی۔ گرمی اور لو نے اس عورت کو جھلسا کر پیتل کر رکھا تھا۔ ’’تنے کچھ پتہ وی ہے کہ میری چھوری مری پڑی ہے…

ایک ہفتہ بخار وِچ سڑ کے گھنٹہ پہلے ہی مر گئی ہے۔ بس ٹرک لینے وسطے آ رہا ہے۔ گھر جا کے کفن دفن وی کرنا ہے …تو ہٹ جا میری چھوری سے…جرثیم لگ جائے گا تینوں تے پھر توں…بس توں اتھوں جا…جا چھورا جا…‘‘ وہ جلتے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں انڈیل کر اپنی بچی کی طرف بڑھی اور اس کے منہ سے چمٹی مکھیاں اڑاتے ہوئے اس پر چادر ڈال دی ۔ میں اپنی جگہ پر کھڑا جلنے لگا، مجھے یوں لگا جیسے اس نے مردہ انسانیت پر چادر ڈال دی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…