ادھڑی ہوئی سڑک کے ساتھ بنے ہوئے تنگ سے کچے راستے پر ہچکولے کھاتی میری گاڑی سست روی سے رواں تھی، جہاں چاروں طرف گردوغبار کے بادل اڑ رہے تھے ۔ مجھے ایک ضروری کام کے سلسلہ میں قریبی شہر پہنچنا تھا مگر سڑک کے پھٹے ہوئے سینے پر جا بجا لگے روڑی کے ڈھیروں اور کچے راستے نے میرے لئے مشکلات پیدا کر دی تھیں۔
تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مزدوروں کے گروپ جھلسا دینے والی گرمی کو مات دے کر اپنے کام میں جتے حوصلوں کی داستانیں رقم کر رہے تھے کہ اچانک میری نظر دائیں طرف جا پڑی۔ ایک معصوم بچی درخت کے سائے میں لیٹی ہوئی تھی۔ جس کے وجود پر ایک میلی سی چادر شاید اسے گرد مٹی سے بچانے کے لئے ڈالی گئی تھی جو آدھی سے زیادہ ڈھلکی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس معصوم کی ابتر حالت دیکھ کر مجھے کار کے اندر کی ٹھنڈک ڈسنے لگی۔ کچھ ہی فاصلے پر تارکول سے چمکتی سڑک کے سینے پر بلڈوزر رینگ رہا تھا اور کچھ مزدورجن میں ایک عورت بھی شامل تھی، پھاوڑے سے سڑک پر سیاہ رال بچھانے میں مصروف تھے۔ میں نے ان پر سرسری سی نگاہ ڈال کر گاڑی ایک طرف کھڑی کردی ۔ اپنے ساتھ رکھے بیگ میں کچھ کھانے پینے کا سامان اور پانی کی ایک بوتل نکال کے باہر نکلا تو گرم لوکے تھپیڑوں اور تارکول کی سڑی ہوئی باس نے میرے حوصلوں پر حملہ کر دیا مگر میں بچی کی طرف بڑھ گیا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر سوئی پڑی تھی۔ ’’ اے چھورا…رک جا‘‘ اچانک چیختی ہوئی ایک نسوانی آوا ز نے میری سماعتوں میں گھس کر میرے بڑھتے قدم جکڑ لئے۔ ’’دور ہٹ جا چھوری سے…‘‘مزدور عورت کام چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتی میرے قریب آتے ہوئے بولی۔ گرمی اور لو نے اس عورت کو جھلسا کر پیتل کر رکھا تھا۔ ’’تنے کچھ پتہ وی ہے کہ میری چھوری مری پڑی ہے…
ایک ہفتہ بخار وِچ سڑ کے گھنٹہ پہلے ہی مر گئی ہے۔ بس ٹرک لینے وسطے آ رہا ہے۔ گھر جا کے کفن دفن وی کرنا ہے …تو ہٹ جا میری چھوری سے…جرثیم لگ جائے گا تینوں تے پھر توں…بس توں اتھوں جا…جا چھورا جا…‘‘ وہ جلتے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں انڈیل کر اپنی بچی کی طرف بڑھی اور اس کے منہ سے چمٹی مکھیاں اڑاتے ہوئے اس پر چادر ڈال دی ۔ میں اپنی جگہ پر کھڑا جلنے لگا، مجھے یوں لگا جیسے اس نے مردہ انسانیت پر چادر ڈال دی ہو۔



















































