اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

چور

datetime 28  اپریل‬‮  2017 |

روبینہ کو اس کے گهر میں کام کرتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تها۔ کام بهی اچها تها اور بظاہر ایماندار عورت لگتی تهی۔ تهوڑی سی چهان بین کے بعد اس نے رکھ لیا۔ روبینہ کام کے لئے آنے لگی اور وہ عادت کے مطابق اس سے اچهے اخلاق سے پیش آتی اس کا حال احوال پوچهتی اور اس کے دکھ سکھ سنتی۔ ان باتوں سے روبینہ کو بظاہر تو کوئی فائدہ نہیں تها لیکن وہ باتوں ہی باتوں میں اس کی ذہنی تربیت کررہی تهی۔

روبینہ جو بہت چهوٹی عمر سے کام کررہی تهی اس وجہ سے وہ دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم سے محروم تهی۔ اسے دین کی بنیادی باتوں کے بارے میں بهی کچھ علم نہ تها۔ اب اس کی کوشش ہوتی کہ وہ اسے باتوں ہی باتوں میں ضروری اور بنیادی باتوں سے روشناس کروادے۔ اسے یہ جان کر بہت ہی دکھ ہوا تها کہ وہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نام تک سے واقف نہیں تهی۔ بچپن سے ہی وہ غربت کی چکی میں پس رہی تهی اور شادی کے بعد بهی اس کے حالات میں کوئی فرق نہیں آیا تها۔ شادی سے پہلے اور بعد میں بهی دو وقت کی روٹی اس کے لئے سب سے بڑا مسئلہ تها۔ اور سچ ہے بهوکے پیٹ کے ساتھ کچھ اور سوچا بهی نہیں جا سکتا۔ بہرحال اس کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ اسے تهوڑا بہت دین سے متعلق باتوں سے فیضیاب کرے۔ اس نے قرآن پڑهانے کا بهی کہا روبینہ سے لیکن روبینہ نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ “باجی کام میں دیر ہوجائیگی ” پهر اس نے بهی زیادہ اصرار کرنا مناسب نہ سمجها یہ سوچ کر کہ آہستہ آہستہ کوشش کرکے اسے قرآن پڑهنے کے لئے بهی راضی کرلے گی۔ معمول کے دن گزر رہے تهے۔ ایک دن روبینہ کو باجی کچھ پریشان سی لگیں۔ اس نے فوراً پوچها “باجی خیر تو ہے آپ کچھ پریشان ہو؟ لیکن اس نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے اسے ٹال دیا۔ اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ اس کا سونے کا لاکٹ کهو گیا ہے جو اسے اس کے شوہر نے رونمائی میں دیا تها۔

مسئلہ لاکٹ کی قیمت نہیں تهی، لاکٹ کی اہمیت تهی جو کہ اسے خاص موقع پر ملا تها۔ جانے کب گلے میں پہنی چین سے گرگیا اسے پتہ ہی نہیں چلا لیکن اسے اتنا یقین تها کہ ہوگا یہیں کہیں گهر میں ہی کیونکہ کل تک تو اس کے گلے ہی میں تها اور آج وہ کہیں باہر نہیں نکلی تهی۔ ڈهونڈ ڈهونڈ کر وہ تهک گئی اور پهر مایوس ہوکر ڈهونڈنے کی کوشش ترک کردی۔ روبینہ ٹیرس کی صفائی کررہی تهی۔ اسے صفائی کے متعلق کچھ ہدایات دینے وہ ٹیرس کی طرف بڑهی اور ٹهٹهک کر رک گئی، روبینہ ٹیرس پر پڑے گملے میں سے کچھ اٹها رہی تهی۔ روبینہ کی دروازے کی طرف پشت تهی اس لئے وہ اسے نہ دیکھ سکی۔ عینی بهی جلدی سے دیوار کی اوٹ میں ہوگئی۔ روبینہ کے ہاتھ میں عینی کا لاکٹ تها جس کے لئے وہ صبح سے پریشان تهی۔ عینی کی فوری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے؟ پهر کچھ سوچ کر وہ لاونج میں صوفے پر جاکر بیٹھ گئی وہ دیکهنا چاہتی تهی کہ روبینہ کیا کرتی ہے آکر لاکٹ اس کے ہاتھ میں دیتی ہے یا پهر اپنے پاس رکھ لیتی ہے؟ روبینہ کو گولڈ کی کوئی اتنی خاص پہچان تو نہیں تهی لیکن اس لاکٹ کو روبینہ نے باجی کے گلے میں دیکها تها اور اسے اتنا اندازہ تها کہ یہ باجی کو بہت پسند ہے۔ ایک لمحے کے لئے روبینہ کے دل میں خیال آیا کہ ” اگر یہ سونے کا ہے تو اس کے بہت سے مسئلے حل ہوسکتے ہیں ” اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے گهر کے بہت سے مسائل گهوم گئے۔

لیکن یہ بس ایک لمحے کی بات تهی اور دوسرے ہی لمحے وہ سر جهٹک کر باجی کے پاس چل دی۔ اور جاکر لاکٹ عینی کے ہاتھ میں تهما دیا یہ کہہ کر ” باجی یہ آپ کا لاکٹ ٹیرس پر پڑے گملے میں لٹک رہا تها ” عینی بظاہر موبائل ہاتھ میں پکڑے بیٹهی تهی لیکن اس کی پوری توجہ روبینہ کی طرف ہی مرکوز تهی، اس نے سر اٹها کر روبینہ کی طرف دیکها اور مسکرا کر ہاتھ بڑها کر لاکٹ تهام لیا۔ ” باجی یہ سونے کا ہے نا؟ روبینہ نے اس سے پوچها “ہاں ” عینی نے جواب دیا۔ ” کافی مہنگا ہوگا؟ روبینہ نے عجیب سے لہجے میں پوچها۔ ” کیوں ؟ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ عینی نے اسے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کردیا۔ ایک لمحے کے لئے روبینہ کے چہرے پر شرمندگی کی جهلک نظر آئی اور وہ یوں گویا ہوئی ” وہ باجی پہلے میں نے سوچا کہ یہ میں اپنے پاس ہی رکھ لوں ” روبینہ نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے تقریباً ہکلاتے ہوئے کہا۔ ” اچها پهر؟ عینی نے اسے بغور دیکهتے ہوئے پوچها۔ ” پهر مجهے آپ کی کہی ہوئی بات یاد آگئی ” “کونسی بات؟ عینی نے سنجیدگی سے پوچها۔ ” جو آپ نے مجهے ایک مرتبہ کہی تهی کہ اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے بے شک مجهے کوئی نہیں دیکھ رہا تها لیکن اللہ سائیں تو دیکھ رہا ہے نا؟ اس نے بڑے یقین کے ساتھ عینی سے تصدیق چاہی۔

اور عینی کے چہرے پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ پهیل گئی ۔”بے شک اللہ دیکھ رہا ہے “اور عینی کو لاکٹ ملنے سے زیادہ اس بات کی خوشی تهی کہ اس کی “تهوڑی “سی محنت رائیگاں نہیں گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…