اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

خلق خدا پر رحم کرنے میں نفع

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پتے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پتے سے جس میں یہ یہ خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں

اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پتے کی ضرورت ہے۔اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے ۔ کسان بہت غریب تھا۔ ڈھیر سارا روپیہ ملنے کی بات سن کر وہ اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ سپاہی اس کے بیٹے کو لے جائیں۔ چنانچہ وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ خاص نشانیوں والا لڑکا مل گیا تو اب قاضی سے پوچھا گیا کہ اسے قتل کر کے اس کے جسم سے پتا نکالنا جائز ہو گا یا نہیں!قاضی صاحب نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کے لیے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے۔ قاضی کے فتوے کے بعد لڑے کو جلاّد کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ اسے قتل کر کے اس کا پتا نکال لے لڑکا بالکل بے بس تھا۔ وہ اپنے قتل کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ زبان سے کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ لیکن جب جلاد تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ بادشاہ خود اس جگہ موجود تھا۔ اس نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ جلاّد کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر تو بڑے بڑے بہادر خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔

اس نے جلاّد کو ر کنے کا اشارہ کر کے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا لڑکے۔ یہ تو بتا، اس وقت مسکرانے کا کون سا موقع تھا؟ لڑکے نے فوراً جواب دیا، حضور والا دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرے ماں باپ نے روپے کے لالچ میں مجھے حضور کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ کے بعد دوسرا سہارا انصاف کرنے والا قاضی اور بادشاہ ہوتا ہے۔

کہ اگر کوئی ظالم کسی کو ستائے تو وہ اسے روکیں۔ لیکن قاضی اور بادشاہ نے بھی میرے ساتھ انصاف نہ کیا اب میرا آخر ی سہارا خدا کی ذات تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جلاّد ننگی تلوار لے کر میرے سرپر پہنچ گیا اور خدا کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا۔ بس یہ بات سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی۔ لڑکے کی یہ بات سنی تو بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو چھوڑ دو۔ ہم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ ہماری جان بچانے کے لیے ایک بے گناہ کی جان لی جائے۔

لڑکے کو اُسی وقت چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا۔ اور قیمتی تحفے دے کر رخصت کیا۔ کہتے ہیں اسی وقت سے بادشاہ کی بیماری گھٹنی شروع ہو گئی اور چند دن میں ہی وہ بالکل تندرست ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…