حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ اب یہ واقعہ پتہ نہیں کہاں تک سچا ہے اللہ جانے، لیکن ہمارے ایک دوست ہیں پروفیسر نصیر صاحب، انہوں نے سنایا، کہنے لگے ایک بس جا رہی تھی، ایک آدمی نے دیکھا تو اسے نیچے ایک سانپ پڑا نظر آیا بس کے اندر تو اس نے کنڈیکٹر کو کہا سانپ سانپ، کنڈیکٹر نے سانپ کو پکڑ کے جو کھڑکی تھی اس سے نیچے پھینکا، تو کہتے ہیں کہ ساتھ ہی ایک اسکوٹر پر نوجوان جا رہا تھا، وہ سانپ اس اسکوٹر والے کے جسم سے جا کر لگا اس نے اس کو کاٹا، جو کاٹا تو اسکوٹر والا گرا
اور مرا، جب پولیس نے آ کر اس بندے کو دیکھا تو اس اسکوٹر کے پیچھے ایک چیز بندھی ہوئی تھی، جیسے کچھ بریف کیس یا جو مرضی سمجھ لو، اس کو جب کھول کر دیکھا تو زلزلے میں جو عورتیں دب کر مر گئیں، ان کے ہاتھوں کو کاٹ کر لایا تھا جن میں چوڑیاں اور انگوٹھیاں پہنے ہوئی تھیں اور اس کو لے جا رہا تھا۔اب بتاؤ کہ کیسا پتھر دل ہو گا کہ مری ہوئی، ملبے میں دبی ہوئی عورتوں کے ہاتھوں کو وہ کاٹ رہا ہے اس لیے کہ اس میں سے اس نے چوڑیاں اور انگوٹھیاں اتارنی ہے اور ان کو وہ بریف کیس میں بھر کے لے جا رہا تھا۔



















































