نبی کریمؐ کی مبارک زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ایک مرتبہ آپؐ سفر پر تشریف لے جا رہے تھے اور ایک صحابی ساتھ تھے۔ ایک جگہ رکے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک درخت سے دو مسواک بنائے، ان میں سے ایک مسواک سیدھی اور خوب صورت تھی اور ایک ذرا ٹیڑھی تھی، نبی کریمؐ نے سیدھی مسواک اس صحابی کو دے دیا اور ٹیڑھی مسواک اپنے پاس رکھ لی،
اس صحابیؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! میرا دل چاہتا ہے کہ یہ سیدھی مسواک آپ کے پاس ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ سیدھی اور خوبصورت مسواک آپ کے پاس ہو، دیکھا! کیسی تعلیمات دی ہیں!۔۔۔ شریکِ سفر اگر کوئی ہے تو اس کا بھی حق بنا دیا۔ اگر زندگی کا چند قدموں کے لیے چلتے ہوئے کوئی شریک بن جاتا ہے تو اس کا حق ہے، تو جو ایک گھر میں پیدا ہوئے، ایک ماں باپ کے نورِ نظر ہیں، ان کا ایک دوسرے پر کتنا حق ہو گا؟
حضرت عمرؓ کا معافی مانگنا
ایک مرتبہ سیدنا بلالؓ بیٹھے ہوئے تھے، کوئی بات چلی تو عمرؓ نے کوئی سخت لفظ استعمال کر دیا، جب عمرؓ نے سخت لفظ استعمال کیا تو بلالؓ کا دل جیسے ایک دم بجھ جاتا ہے اس طرح سے ہو گیا اور وہ خاموش ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے، جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے، عمرؓ نے محسوس کر لیا کہ انہیں میری اس بات سے صدمہ پہنچا ہے، چنانچہ عمرؓ اسی وقت اٹھے، بلالؓ کو آ کر ملے، کہنے لگے: اے بھائی! میں نے ایک سخت لفظ استعمال کر لیا، آپ مجھے اس کے لیے معاف کر دیں، انہوں نے کہا، جی جی مگر عمرؓ کو تسلی نہیں ہو رہی تھی اس لیے کہ وہ ذرا خاموش خاموش تھے،
دل جو دکھا تھا تو جب عمرؓ نے دیکھا کہ بلال کا دل خوش نہیں ہو رہا تو بات کرنے کے بعد بلالؓ کے سامنے زمین پر لیٹ گئے اور کہا: بھائی! میرے سینے پر اپنے قدم رکھ دو! میری غلطی کو اللہ کے لیے معاف کر دو! بلالؓ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، امیر المومنین! میں ایسی حرکت کیسے کر سکتاہوں؟ جو بڑے حضرات تھے اپنی زندگی کے معاملے کو ایسے سمیٹا کرتے تھے۔



















































