بابا اٹھیں انکل حلیم نے خود کو گولی مار لی ہے۔ میرا دوست حلیم اپنے نام کی طرح بہت ہی امن پسند اور حلیم طبعیت تھا۔ ایک ساتھ محلے میں رہتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ حلیم نہ تو جھگڑالو ہے اور نہ ہی فسادی۔ ان شارٹ ہمارے الفاظوں میں وہ ایک شریف بزدل تھا۔ اسکی شادی ہوئی۔ شروع کے دن تو خیریت سے گذرے لیکن پھر وہ ٹریجڈی جو کہ ہر پاکستانی کے گھر کی سٹوری ہے۔ ساس بہو میں چپلقشیں۔
لڑائیاں جھگڑے جو آس پاس کے گھروں میں بھی سنائی دیتے۔ حلیم کے دو بچے تھے ان کی موجودگی میں بھی جھگڑے۔ کیا گزرتا ہوگا ان معصوم ذہنوں پر؟ اور حلیم ٹہرا بزدل نہ ماں کو سمجھا سکا اور نہ بیوی کو۔ مجبور ہو کر خود کشی کر لی اس نے۔ کیا قصور ان ننھی جانوں کا؟ مرد کو اللہ تعالی نے فضیلت دی ہے طاقت دی ہے اسے سمجھانا چاہیے نہ کہ راہ فرار اختیار کرنی چاہیے۔ آپ یقین جانیے بلکہ آپ سب کو آپ میں بھی ایسے ہیں جن کو معلوم ہے گھر کے نناوے فیصد رولے اسی جھگڑے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بدلے میں کیا ہوتا ہے؟ حلیم بچوں کو اور ان کی ماں کو کس سہارے چھوڑ کر گیا۔ کیا یہ صحیح قدم ہے۔ بالکل بھی نہیں اگر چھوٹے بڑوں کی باتوں کو یہ سوچ کر برداشت کرلیں کے ہمارے بھلے کی ہیں تو لڑائیاں کم پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر ایک بہو اپنی ساس کو اپنی ماں سمجھ لے تو بھی لڑائی کم ہی ہوگی کیونکہ مائیں تو بیٹیوں کو ڈانٹ ہی لیا کرتیں ہیں۔ ویسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اچھے اخلاق سے دشمن کا دل موم کر سکتے ہیں اور وہ تو پھر اپنے ہیں بات صرف اپنا سمجھنے کی ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو اتنا بڑا کرتی ہے اس کے لیے ساری راتوں کو جاگتی ہے اور پھر جب اس کی شادی کرتی ہے تو اس کے لیے تھوڑا سا مشکل ہوتا ہے آئی تھنک ایک دم سے ایسے چینج کا آنا اور پھر جو لڑکی بہو بن کر آتی ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ اس نے اپنی فیملی کو جس بندے کے لیے چھوڑا ہے وہ بس اس کو ہی ٹائم دے۔
کسی اور طرف نہ دیکھ اس لیے وہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان میں ہوتا کوئی بھی غلط نہیں ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ والدین جو بزرگ اور سمجھدار ہوتے ہیں وہ باتوں کو سمجھیں اور جو گھر کے نوجوان ہیں وہ درگزر کرنا سیکھیں کیونکہ ایسا ٹائم ان پر بھی آنا ہے۔



















































