مکہ مکرمہ میں ایک اسلحہ ڈیلر تھا۔ اس کا نام صفوان بن امیہ تھا۔ یہ اس زمانے میں اتنا بڑا اسلحہ ڈیلر تھا کہ اس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں نیزے اور تلواریں سٹاک میں موجود رہتی تھی، جب قبیلے آپس میں لڑتے تھے تو اس سے ہتھیار کرایہ پر لے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ جب غزوۂ حنین کے لیے نبی کریمؐ تشریف لے جانے لگے تو خود نبی کریمؐ نے اس سے تلواریں اور نیزے ادھار لیے تھے۔
اس نے ایک آدمی کو تیار کیا جس کا نام عمیر بن وہب تھا۔ اس سے کہا کہ دیکھو، تمہارے اہل خانہ کے خرچہ کی ساری ذمہ داری میں لیتا ہوں، پوری زندگی ان کو میں خرچہ دوں گا۔ یہ تلوار میں آپ کو دے رہا ہوں، یہ زہر میں بجھی ہوئی ہے۔ اس کو لے کر مدینہ منورہ جاؤ اور مسلمانوں کے پیغمبر پر حملہ کرو۔ اس کو پکا یقین تھا کہ اگر اس تلوار کی خراش بھی لگ گئی تو وہ دوسرے بندے کے مرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ زہر میں بجھی ہوئی تھی۔ عمیر اس کے لیے تیار ہو گیا۔چنانچہ وہ مدینہ طیبہ آیا۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ایک صحابیؓ نے اسے دیکھا توانہیں احساس ہوا کہ۔۔۔ ’’بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں‘‘۔۔۔ چنانچہ انہوں نے عمیر کو گرفتار کر لیا اور نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپؐ نے پوچھا تو اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ مجھے صفوان بن امیہ نے اس مشن کے لیے روانہ کیا تھا۔ اب آپ مجھے معاف فرما دیں کیونکہ میں غربت سے تنگ ہو کر یہ کام کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ اللہ کے نبیؐ نے عمیر بن وہب کو بھی معاف کر دیا۔ اس کے بعد وہ واپس مکہ مکرمہ چلا گیا۔کچھ عرصہ بعد نبی کریمؐ نے مکہ کو فتح کیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو عمیر بن وہب نے تو آ کر کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گیا۔ لیکن صفوان بن امیہ کو پکا پتہ تھا کہ میرے تو قتل کے احکام جاری ہو جائیں گے، چنانچہ وہ جان بچا کر بھاگا۔
وہ چاہتا تھا کہ یمن چلا جائے لیکن عمیر بن وہب نے جب اسلام قبول کیا تو اس نے نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ! صفوان بن امیہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ گیا ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس کی جان کو امان دے دیں، بخش دیں۔ نبی کریمؐ نے معاف فرما دیا۔عمیر کہنے لگا کہ اگر میں صفوان کو آپ کی طرف سے معافی کا بتاؤں گا بھی، تو وہ میری بات کا یقین نہیں کرے گا،
لہٰذا آپ کوئی نشانی دے دیں تاکہ اس کو یقین آجائے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے اپنا مبارک عمامہ اتار کر دے دیا اور فرمایا کہ میرا عمامہ اس کے پاس لے جاؤ، یہ نشانی کے طور پر اسے دکھا دینا۔اب عمیر بن وہب چلے۔ راستے میں صفوان ملے اور کہا کہ صفوان! آئیں واپس چلیں۔ اس نے کہا کہ مجھے جان کا خطرہ ہے۔ عمیر نے کہا: میں ان سے جان بخشی کا وعدہ لے چکا ہوں۔ اس نے پوچھا: تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟
عمیر کہنے لگے: دیکھو وہ اتنے رحیم و کریم ہیں کہ انہوں نے اپنا عمامہ بطور نشانی عطا فرما دیا ہے۔ جب صفوان نے عمامہ دیکھا تو حیران رہ گیا۔ چنانچہ وہ واپس آیا اور نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں نے سنا ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہاں۔ کہنے لگا کہ میں نے تو ابھی اسلام لانے کا ارادہ نہیں کیا۔ آپ مجھے دو مہینے کی مہلت دے دیں۔
نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں دو مہینے کی بجائے چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں، جب تمہارا جی چاہے اس وقت کلمہ پڑھ لینا۔ اللہ رب العزت نے صفوان کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ چار مہینے گزرنے سے پہلے اس نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔



















































