ایک بزنس ایگزیکٹو قرضوں کی گہری دلدل میں پھنس گیا اور ان سے نجات پانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ قرض خواہ اور سپلائرز ، سب کے سب اپنی اپنی رقوم کا بار بار مطالبہ کر رہے تھے۔ ایک روز وہ شدید مایوسی کی حالت میں ایک پارک میں بیٹھا اِسی فکرمندی میں گُم تھا کہ کس طرح اپنی کمپنی کو بُری طرح دیوالیہ ہونے سے بچا سکے مگر لاکھ فکروں کے باوجود اُمید کی اِک بھی کرن نظر نہ آتی تھی۔
اچانک ایک بوڑھا سا شخص پارک میں اس کے پاس آیا اور چہرے پر اُفسردگی کے آثار دیکھ کر غمخواری کے لہجہ میں پُوچھنے لگا : ’’ لگتا ہے کہ آپ کسی سنگین پریشانی کا شکار ہیں مجھے کچھ بتانا پسند کریں گے؟‘ ‘۔ بزنس ایگزیکٹو نے ساری کہانی بیان کر دی سب کچھ سُن کر بوڑھا کہنے لگا:’’ میرا خیال ہے کہ مَیں آپ کی مدد کر سکتا ہُوں۔‘‘ پھر اُس بوڑھے نے پریشان حال بزنس ایگزیکٹو سے اُس کا نام پوچھا اور ساتھ ہی اپنی جیب سے چیک بُک نکالی ایک چیک کاٹا اور اُسے تھماتے ہوئے کہنے لگا:’’ یہ رقم لو ، اور اگلے سال عین آج کے دن مُجھے یہاں مِلنا اور یہ رقم بھی اُس وقت واپس کر دینا۔‘‘ یہ کہہ کر بوڑھا آدمی جس تیزی سے آیا تھا ۔۔۔۔۔ اُسی رفتار سے غائب ہو گیا۔ بزنس ایگزیکٹو نے چیک پر نظر ڈالی ۔۔۔۔۔ تو یہ 5 لاکھ ڈالرز کا تھا اور اس پر دستخط تھے وارن بفٹ کے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ امریکی شخص وارن بفٹ دُنیا کے امیرترین لوگوں میں شامل ہے، ذاتی حیثیت میں اس سے زیادہ بڑا سرمایہ کاری کرنے والا دُنیا میں کم ہی ہو گا۔ چند برس تک اس نے دُنیا کے سب سے امیر آدمی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔ بزنس ایگزیکٹو کی پریشانی فوراً دُور ہو گئی تھی۔ مگر اس واقعہ سے نا جانے اُس کے اندر حمیّت اور مضبوط قوّت ِ اردای کیسے جاگ اُٹھی۔ پس اس نے اُسی لمحے ایک عجیب فیصلہ کیا کہ وہ یہ چیک کیش نہیں کرائے گا۔ چنانچہ اس نے چیک کو گھر جا کر اپنی الماری میں سنبھال کر رکھ دیا۔ چیک نے اسے اپنا کاروبار بچانے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا۔
نئے عزم سے بھرپور محنت کا حوصلہ اور ہمت عطا کی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ چیک صرف ہنگامی حالات میں ہی کیش کراؤں گا۔ اب اس نے نئے کاروباری مُعاہدوں کے لئے نئی اور جواں سوچ کے تحت مذاکرات کئے، اپنے پُورے کاروبار کو نیا سٹرکچر دیا، نئے جوش و جذبے سے کام کیا ، نتیجتاً اس نے بہت سے کامیاب کاروباری مُعاہدے کئے۔ چند مہینوں کے دوران ہی اس نے سارے کا سارا قرضہ اُتار دیا اور اس کی کمپنی دھڑا دھڑا نوٹ کمانے لگی۔ پُورے ایک سال بعد بزنس ایگزیکٹو اُسی پارک میں عین اُسی جگہ پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں 5 لاکھ ڈالر کا وہی چیک تھا۔ دوسری طرف سے بُوڑھا آدمی بھی وہاں پہنچا۔
جیسے ہی بزنس ایگزیکٹو بُوڑھے آدمی کو چیک واپس کرنے اور اپنی کامیابی کی داستان سنانے لگا دفعتاً ایک طرف سے ایک نرس دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے بوڑھے آدمی کو ہاتھ سے پکڑا اور یہ کہتے ہوئے واپس لے جانے لگی:’’ مَیں بہت خوش ہُوں کہ مَیں نے اِسے پکڑ لیا ہے۔ مجھے اُمید ھے کہ اِس نے آپ کو زیادہ تنگ نہیں کیا ہو گا۔ یہ ہمیشہ مَینٹل ہسپتال سے بھاگ جاتا ہے اور لوگوں سے کہتا رہتا ہے کہ وہ وارن بفٹ ہے۔‘‘ یہ کہہ کر نرس بُوڑھے سمیت غائب ہو گئی۔ بزنس ایگزیکٹو مارے حیرت کے وہاں کھڑے کا کھڑا رہ گیا بالکل گنگ اور پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ۔۔ پُورے ایک سال تک اس نے یہ سمجھ کر لوگوں کے ساتھ مُعاہدے کئے کہ اس کے پاس 5 لاکھ ڈالرز ہنگامی حالات کے لئے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ شاید مغرب والوں میں سے کسی کا مَن گھڑت قصّہ ہو۔
تاہم اِس میں ایک کُھلی حقیقت موجود ہے کہ محض دولت ہی زندگی نہیں بدلتی بلکہ خود اعتمادی ہمیں ایک ایسی طاقت عطا کرتی ہے جسے پاکر ہم اپنی ساری مَن پسند کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہ خود اعتمادی اگر ہم میں آ جائے تو ہم زندگی کے ہر بُحران پر قابو نہ پا سکیں۔



















































