نبی کریمؐ نے ایک صحابی کو آتے دیکھا تو فرمایا: یہ جنتی ہے، جنت کی بشارت تو سب کے لیے تھی لیکن نام لے کر یوں کسی کونشاندہی کرکے کہنا کہ یہ جنتی ہے، بڑے اعزاز کی بات تھی۔ ایک دوسرے صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ محفل میں موجود تھے، فرمانے لگے کہ میں نے دل میں سوچا کہ اب میں ان کے ساتھ دوستی لگاتا ہوں،
اور دیکھتا ہوں کہ یہ کون سا ایسا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے نبی کریمؐ نے ان کو نام لے کر جنت کی بشارت دی۔چنانچہ انہوں نے ان سے کہا کہ بھئی! میں آپ کے یہاں تین دن کے لیے مہمان رہنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا ، بہت اچھا، ان کے دن رات کے معمولات دیکھے، تین دن کے بعد کہنے لگے، بھئی! میں تو اس لیے آیا تھا کہ آپ کا کوئی عمل دیکھوں، جو دوسروں سے بڑھ کر ہو، مجھے تو کوئی ایسا عمل نظر نہیں آیا جو دوسرے صحابہ نہ کرتے ہوں، آپؓ کے اعمال بھی ویسے ہی ہیں، کوئی انوکھی چیز نظر نہیںآئی، مگر یہ کیا وجہ ہے کہ نبی کریمؐ نے آپ کا نام لے کر فرمایا ہے کہ یہ جنتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ دیکھیں! میرے اندر کوئی اور عمر تو نہیں جو دوسروں سے زیادہ بڑھا ہوا ہو، مگر ایک چیز میرے اندر ضرور موجود ہے، انہوں نے پوچھا وہ کیا؟ کہنے لگے کہ وہ عمل یہ ہے کہ جب میں رات کو سونے لگتا ہوں، میں ہمیشہ نیت کرکے سوتا ہوں کہ جن لوگوں نے مجھے دکھ دیا، تکلیف پہنچائی اور میرے دل میں ان کے بارے میں غصہ ہو، میں نے ان سب کو اللہ کے لیے معاف کر دیا، میں اپنے سینے سے کینے کو ختم کرکے سوتا ہوں، شاید میرا یہ عمل اللہ کو پسند آ گیا ہو اور پروردگار نے مجھے دنیا میں جنت کی بشارت دے دی۔



















































