نبی کریمؐ تشریف فرما ہیں، ابوبکر صدیقؓ بھی ہیں، ایک صاحب آئے ان کی کسی بات پر سیدنا صدیقؓ سے رنجش تھی، انہوں نے سخت باتیں کرنا شروع کر دیں، وہ باتیں کرتے رہے اور صدیق اکبرؓ بھی سنتے رہے اور اللہ کے محبوبؐ بھی سنتے رہے۔ جب بات بڑھنے لگی تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے جواب دیا، اپنی طرف سے صفائی پیش کی۔ نبی کریمؐ جانے کے لیے کھڑے ہو گئے، ابوبکر صدیقؓ نے پوچھا: اے اللہ کے نبیؐ! آپ جا رہے ہیں؟
فرمایا: ابو بکر! جب یہ شخص تمہارے بارے میں ایسی بات کر رہا تھا تو اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو تمہاری طرف سے اس بندے کو جواب دے رہا تھا۔ جب تم نے خود جواب دینا شروع کیا تو وہ فرشتہ بھی چلا گیا اور اب میں بھی اس مجلس سے اٹھ کر جا رہا ہوں۔۔۔ تو بھئی ! یہ کتنا آسان طریقہ ہے کہ اللہ رب العزت کو اپنا مددگار اور کارساز بنا لیا جائے، صبر کر لیا جائے کیونکہ اس کا بدل اللہ کی مدد کی شکل میں ملتا ہے۔



















































