حضرت موسیٰؑ اور خضرؑ ایک بستی میں پہنچے، بستی والوں نے کھانے کے لیے بھی نہ پوچھا، اس کے باوجود حضرت خضرؑ نے ایک گھر کی دیوار جو گرانے والی تھی اس کو سیدھا کرکے درست کر دیا، حضرت خضرؑ سے سیدنا موسیٰؑ نے کہا کہ ان لوگوں کا ہمارے ساتھ یہ برتاؤ، اور آپ نے پھر بھی اس کی دیوار درست کر دی، انہوں نے کہا کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی ہے،
جبکہ اس کے والدین نیک تھے اور انہوں نے اس دیوار کے نیچے ان دونوں یتیم کے لیے خزانہ چھپا دیاتھا کہ میرے مرنے کے بعد اور ان کے بڑے ہونے کے بعد ان کو کام آئے گا، اب اگر یہ دیوار گر جاتی او خزانہ ظاہر ہو جاتا، تو اس بستی کے لوگ لے لیتے اور یہ دونوں یتیم چھوٹے بچے محروم ہو جاتے، اس لیے میں نے دیوار سیدھی کر دی، تاکہ نہ دیوار گرے نہ خزانہ ظاہر ہو اور نہ یہ بچے محروم ہوں، تو دیکھئے ان یتیم بچوں کے والدین نیک، متقی، پرہیزگار تھے، اس بناء پر اللہ پاک نے حفاظت کا انتظام کس انداز میں کیا؟ اشارۂ خداوندی ہوا کہ میں ان کے اس خزانے کی حفاظت کر دوں وکان تحتہ کنز لھما وکان ابو ھما صالحا (پ 16 آیت 82 سورۂ کہف) اللہ تعالیٰ نیکوں کی اولاد کے ساتھ بھی اسپیشل اور خاص معاملہ فرماتے ہیں، ہم اگر چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی ہمیں نصیب ہو جائے اور ہماری اولاد کو بھی نصیب ہو جائے تو اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ ہم گناہوں سے جان چھڑائیں اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائیں۔



















































