اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کوئی فوج بلوائی ہوئی ہے؟

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ کا ایک مدرسہ تھا، وہ دہلی سے اٹھارہ میل دور غازی آباد میں واقع تھا، وہ کئی ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا مدرسہ، آج بھی چل رہا ہے، اس مدرسے کے ناظم سے اس عاجز کی کسی نہ کسی ملک میں ملاقات بھی ہو جاتی ہے، وہ حالات سناتے رہتے ہیں، الحمدللہ! وہ بھی حضرت کے لیے صدقہ جاریہ ہے،

اس مدرسے کا واقعہ ’’تجلیات‘‘ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ جب تقسیم ہند کا وقت آیا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔اس مدرسے کے ایک استاد سکھوں کی بستی کے قریب سے گزر رہے تھے، ایک سکھ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: میاں جی!۔۔۔ یہ سکھ کسی مسلمان کو دیکھتے ہیں تو اسے میاں جی کہتے ہیں اور ہم انہیں دیکھ کر سردار جی کہتے ہیں۔۔۔ اس نے کہا: میاں جی! کیا آپ نے اپنی حفاظت کے لیے کوئی فوج بلوائی ہوئی ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا، ہماری بستی کے سکھ تین مرتبہ تلواریں اور دوسرے اسلحہ لے کر اس مدرسے کے مسلمانوں کو لوٹنے اور مارنے کے لیے نکلے ہیں، لیکن جب بھی ہم اس کے قریب پہنچتے تھے تو ہمیں فوجی چاروں طرف پہرہ دیتے نظر آتے تھے، یہ خدائی فوج ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کی دشمنوں سے حفاظت فرما دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…