اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارتی مصنفہ کملا داس کیسے کملاثریا بنیں؟

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

یہ گیارہ دسمبر 1999ء کا ایک یادگار دن تھا۔ جنوبی بھارت کے شہر کوچن کیرالا لائبریری کونسل کا اجلاس ہو رہا تھا ۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس اجلاس میں ایک ایسا اعلان ہونے والا ہے جو اس اجلاس کو نہ صرف عالمی شہرت بخش دے گا، بلکہ اسے تاریخ کے صفحات میں بھی محفوظ کر دے گا ، خود اعلان کرنے والی خاتون بھی اپنے اس اعلان سے آگاہ نہ تھی۔

جب وہ تقریر کرنے کے لیے آئی تو اس نے محسوس کیا کہ ایک نور نے اس کی ذات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اس کے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوئے او زبان سے بے ساختہ نکلا” یا الله“ اس کے ساتھ ہی ساری مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا اور حیرت نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سناٹا اس وقت ٹوٹا جب اس نے کہا: ” اب میں اس کی پرستار ہوں جو اپنی ذات میں یکتا ہے ۔“ یہ اعلان کرنے والی کوئی مسلمان خاتون نہ تھی بلکہ انگریزی اور ملیالم زبان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ بھارت کی ہندو مصنفہ کملا داس تھی ، جو اعلان کرتے ہی مسلمان ہو چکی تھی ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے ” کملاثریا“ کا نام پسند کیا۔ کملا داس کے قبول اسلام کی داستان کا آغاز 37 برس قبل ہوتا ہے، جب انہوں نے امتیاز اور ارشاد نامی دو مسلمان بچوں کو گود لیا اور انہیں ہندو بنانے کے بجائے ان کی تعلیم وتربیت اسلام کے مطابق کی۔ اس طرح ان کا اسلامی تعلیمات سے واسطہ پڑا اور آہستہ آہستہ اسلام ان کے دل میں گھر بناتا چلا گیا۔ مسلمان گھرانوں سے تعلقات نے بھی دین اسلام کی حقانیت سے ان کے ذہن کو روشن کیا۔ کملا داس نے اپنے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے اپنے شوہر کو آگاہ کیا ، شوہر ایک آزاد خیال انسان تھا، اس نے آنے والی تبدیلیوں میں رکاوٹ بننے کے بجائے بیوی کو اسلام کے مزید مطالعہ کی اجازت دے دی ۔ اسلام کے مطالعہ سے ان کے قلب وذہن میں روشنی پھیلنے لگی اور تاریکی دور ہونا شروع ہو گئی۔ قبول اسلام کے بارے میں انہوں نے بڑا دلچسپ واقعہ بتایا ہے۔

” میں مالا بار سے کوچی کی طرف کار میں سفر کر رہی تھی۔ صبح پونے چھ بجے سفر کا آغاز کیا تھا، میں نے طلوع آفتاب کا منظر دیکھا۔ خلاف توقع طلوعِ آفتاب کا رنگ غروب آفتاب جیسا تھا۔ یہ میرے ساتھ سفر کرتا رہا اور سات بجے صبح یہ سفید ہو گیا۔ میں کئی سالوں سے کسی ایسی ہی علامت کا انتظار کر رہی تھی جو یہ بتائے کہ مجھے اسلام کب قبول کرنا ہے ۔ قدرت نے سورج کے بدلتے رنگ سے مجھے قبولِ اسلام کا پیغام دے دیا تھا۔“ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 11 دسمبر 1999ء کو کوچن میں کیرالا لائبریری کونسل کا افتتاح کرنے کے لیے جاتے ہوئے آپ نے یہ طے کیا تھا کہ وہاں قبول اسلام کا اعلان کریں گی؟ تو جواب میں انہوں نے بتایا” نہیں نہیں ، پہلے سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں تھا۔ افتتاحی کلمات میری زبان سے ادا ہو رہے تھے تو مجھے محسوس ہوا ہے کہ جیسے ایک نور میرے قریب ہوا ہو ۔ اسی لمحہ میرے دل نے بذات خود فیصلہ کر لیا اور زبان نے بے ساختہ اس کا اظہار کر دیا ۔ میرے ہاتھ خود بخود آسمان کی طرف اٹھ گئے اور میر ی زبان سے ” یاالله“ کا لفظ نکلا اور تقریباً اسی کیفیت میں دس منٹ تک مجھ پر اور ساری مجلس پر ایک سکتہ طاری رہا۔ ہزاروں کے اس مجمع میں ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ اس وقت میں نے اپنی دیرینہ خواہش پوری کر دی، جو ایک زمانہ سے میرے سینے میں دبی ہوئی تھی۔“ ثریا کے قبول اسلام پر خلیج ٹائمز نے لکھا کہ ” بھارتی شہر کوچن کے گاندھی نگر میں وائل اسٹیڈیم کے قریب سات نمبر فلیٹ ثریا کے قبول اسلام کے بعد سے اب تک لوگوں سے کھچا کچ بھرا ہوا ہے،

ثریا کے ٹیلی فون کو پانچ منٹ کا بھی وقفہ نہیں ملتا اور دنیا بھر سے انہیں مبارک باد کے پیغام مل رہے ہیں۔ برطانوی دور کے معروف ہندو بنگالی دانش ور اور شاعر رابندرناتھ ٹیگور نے ایک بار کہا تھا کہ آئندہ 60 سالوں میں اسلام ہندوستان کے ہر گھر کی تقدیر بن جائے گا۔ اگر برصغیر کے مسلمان فرقہ وارانہ مباحث اور نسلی جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے اسلام کی دعوت پھیلانے کی طرف توجہ دیتے ، بھارت کے عوام کو توحید سے آگاہ کرتے تو آج ہندوستان کا مذہبی نقشہ مختلف ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…