یہ ایک معمولی بات تھی لیکن اس معمولی بات نے اسے وقت کا عظیم ادیب بنا دیا تھا۔ ایک دن وہ میسوری کی گلیوں سے گزر رہا تھا راستے میں اسے کتاب کا ایک پھٹا ہوا ورق دکھائی دیا، اس نے یونہی وقت گزارنے کے لیئے اسے اٹھا لیا، اس نے ورق پڑھا تو یہ جون آف آرک کی سوانح حیات کا ایک ورق تھا، اس صفحے پر جون آف آرک کی قید کے بارے میں کچھ لکھا تھا۔ وہ جون آف آرک کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، اسے اس کے بارے میں دلچسپی ہوئی اور اس نے جون
آف آرک کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا، اس نے جون کے بارے میں ساری کتابیں پڑھ ڈالیں۔ بتیس سال تک وہ جون آف آرک کے بارے میں سب کچھ پڑھ چکا تھا۔ چھیالیس برس کی عمر میں اس نے ”جون آف آرک کی یادگاریں “نامی کتاب لکھی یہ ایک معمولی کتاب تھی لیکن اس کتاب سے اس نے ادب کی شاہراہ پر سفر شروع کر دیا اور آج دنیا اسے مارک ٹوین کے نام سے جانتی ہے ۔ اگر مطالعے کی عادت پڑ جائے تو کتاب کا ایک پھٹا ہوا ورق آپ کو بھی ادیب بنا سکتا ہے۔



















































