بمبئی کا ایک تاجر تھا۔ اس نے ابک مرتبہ ایک وائسرائے کی چائے کی دعوت کی۔ اس نے اس دعوت کے لیے ایک کمپنی کو ٹھیکہ دیا کہ اس کے لیے انتظامات کرو۔ انہوں نے بڑے عالیشان سائبان لگائے، ٹینٹ لگائے اور جگہ بنائی۔ جب مہمان وہاں آئے تو انہوں نے ان کے سامنے ایک میزپر سے کپڑا ہٹایا تو اس کے اندر مختلف عمارتیں بنی ہوئی تھیں: تاج محل بنا ہواتھا، دہلی کی مسجد بنی ہوئی تھی،
لال قلعہ بنا ہوا تھا، گلشن آرا بیگم کا باغ بنا ہوا تھا۔ انہوں نے دیکھ کر کہا: جی ٹھیک ہے، ہم نے اسے دیکھ لیا ہے، تم لوگوں نے یہ چیزیں بہت اچھی بنائی ہیں مگر ہمارے پاس وقت کی کمی ہے، ہمیں واپس بھی جاناہے، آپ لوگوں نے کہا تھا کہ چائے پلائیں گے، چنانچہ اب آپ چائے کا انتظام کریں۔ یہ سن کر کمپنی کے منیجر نے کہا کہ جناب! ہم نے یہ آپ کے لیے چائے کا ہی انتظام کیاہے، اس کو ذرا غور سے دیکھیں، یہ دیکھنے میں تاج محل ہے مگر کھانے میں بہترین قسم کا بسکٹ ہے۔ اب جب انہوں نے آگے بڑھ کر کھانا شروع کردیا تو میناروں میں ذائقہ الگ ہے، دروازوں میں ذائقہ الگ ہے۔ وہ دراصل مٹھائی تھی جو انہوں نے اس انداز میں پیش کی۔ چنانچہ وہ سب لوگ اس پر جھپٹ پڑے اور انہوں نے تھوڑی دیر میں تاج محل بھی کھا لیا، لال قلعہ بھی کھالیا، مسجد بھی کھا لی اور باغ بھی کھا لیا۔جب انہوں نے سب کچھ کھالیا تو انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ تم نے اتنا میٹھا سامنے رکھ دیا، کچھ تو نمکین بھی رکھا ہوتا۔ اس نے کہا کہ جناب! جو نیچے ٹرے ہے وہ نمکین کھانے کی بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے وہ ٹرے بھی کھا لی۔



















































