ایک صحابیؓ تقاضے کے لیے ویرانے میں گئے، ابھی وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ زمین میں چوہے کا سوراخ تھا، اس سوراخ کو بل کہتے ہیں، اس بل میں سے ایک چوہا نکلا، اس کے منہ میں ایک دینار تھا، اس نے وہ دینار باہر ہی چھوڑ دیا، پھر وہ اندر گیا اور دوسرا دینار لے کر آیا، پھر تیسرا دینار، جب وہ فارغ ہو کر اٹھے تو وہ اٹھارہ دینار باہر لا چکا تھا، اس صحابیؓ نے وہ دینار اٹھالیے۔
صحابہؓ کی ایک قابل تحسین عادت یہ ہوتی تھی کہ جب بھی ان کو کوئی نئی بات پیش آتی تو وہ اس کے بارے میں نبی کریمؐ سے پوچھاکرتے تھے، انہوں نے وہ دینار لا کر نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کر دیے اور پوچھا! اے اللہ کے محبوبؐ، مجھے یہ واقعہ پیش آیا ہے، اب بتائیے کہ میں ان دیناروں کا کیاکروں؟ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اصل میں تمہارا رزق ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ پہنچانے کا بندوبست کر دیا، اب تم اسے استعمال میں لے آؤ۔
پردۂ غیب سے کھانے کا انتظام
حضرت امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ جب قبیلہ اشعریین کے لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو ان کا زادِ راہ ختم ہو چکا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنا ایک آدمی رسول اللہؐ کی خدمت میں اس غرض سے بھیجا کہ ان کے کھانے وغیرہ کا کچھ انتظام فرما دیں، وہ آدمی جب نبی کریمؐ کے در اقدس پر پہنچا تو اندر سے نبی کریمؐ کی تلاوت کی آواز آئی، آپؐ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: ’’وما من دابۃ فی الارض الا علی اللّٰہ رزقھا۔ (ھود آیت۔6)‘‘یہ آیت سنتے ہی اس کے دل میں خیال آیا کہ جب اللہ نے ہر ذی روح شے کا رزق اپنے ذمہ لے لیا ہے تو پھر ہم بھی اللہ کے نزدیک دوسرے جانوروں سے گئے گزرے نہیں ہیں،
وہ ضرور ہمارے لیے بھی رزق کا بندوبست فرما دیں گے، چنانچہ وہ وہیں سے واپس آ گیا اورنبی کریمؐ کو کچھ نہ بتایا، لیکن واپس جا کر اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ خوش ہو جاؤ تمہارے لیے اللہ کی مدد آ رہی ہے اس کے ساتھیوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا کہ اس نے اپنی حاجت نبی کریمؐ کو بیان کر دی ہے اور اللہ کے محبوبؐ نے انتظام کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے، وہ یہ سمجھ کر مطمئن ہو گئے۔
وہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دو آدمی ایک بڑا سا برتن لے کر آئے جو گوشت اور روٹیوں سے بھرا ہوا تھا، وہ دونوں آدمی کھانا دے کر چلے گئے، انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، لیکن ابھی بہت سا کھانا بچ گیا، انہوں نے سوچا کہ یہ سچا ہوا کھانا نبی کریمؐ کی خدمت میں واپس بھیج دیاجائے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال ہو سکے، چنانچہ دو آدمی کھانا لے کر نبی کریمؐ کی خدمت میں پہنچ گئے،
اس کے بعد وہ سب حضرات نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا کہ اللہ کے نبیؐ! آپ کا بھیجا ہوا کھانا بہت مزے دار تھا، نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تو کوئی کھانا نہیں بھیجا، تب انہوں نے تفصیل بتائی کہ ہم نے اپنے فلاں ساتھی کو آپ کی طرف بھیجا تھا اور اس نے ہمیں آ کر یہ بتایاتھا، چنانچہ ہم یہی سمجھتے کہ آپؐ نے بھیجا ہے۔ یہ سن کر نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ میں نے نہیں بلکہ اس پروردگار نے آپ کا رزق بھیجا ہے جس نے ہر ذی روح شے کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے۔۔۔ اللہ اکبر!!!



















































