خواجہ غلام حسن سواکؒ خواجہ سراج الدینؒ کے خلیفہ مجازتھے، وہ بڑے صاحب تصرف بزرگ تھے، وہ جس کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتے تھے وہ مسلمان ہو جاتا تھا، ہندوؤں نے انگریز کی عدالت میں مقدمہ درج کروا دیا کہ یہ ہمیں زبردستی مسلمان کرتے ہیں، انگریز جج نے ان کو عدالت میں طلب کر لیا،
جج نے پوچھا: جی آپ ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کیوں کرتے ہیں، حضرتؒ نے فرمایا کہ نہیں میں نے تو ان کو مسلمان نہیں کیا یہ تو خود مسلمان ہوئے ہیں، جج نے اصرار کیا کہ نہیں تو نے مسلمان کیا ہے، آخر حضرتؒ نے ہندو تھانے دار کی طرف انگلی سے اشارہ کرکے فرمایا: کیا اس کو بھی میں نے مسلمان کیاہے؟ وہ تھانے دار فوراً کلمہ پڑھنے لگا، اب دوسرے کی طرف اشارہ کیاتو وہ بھی کلمہ پڑھنے لگا، اس طرح وہاں کھڑے ہوئے پانچ ہندوؤں نے کلمہ پڑھ لیا، اب انگریز جج کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں میری طرف اشارہ نہ ہو جائے، چنانچہ اس نے مقدمہ خارج کر دیا۔وہ صاحب تصرف بزرگ ضرور تھے مگران کو وہ قبولیت نہ مل سکی جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کو ملی، ان کی وجہ سے سات لاکھ افراد مسلمان ہوئے اور نوے لاکھ افراد ان کے مرید بنے، آج انہیں ’’سلطان الہند‘‘ کہا جاتا ہے۔*۔۔۔ ایک مرتبہ ایک انگریز ہندوستان آیا، جب وہ واپس گیا تو اس سے کسی نے پوچھا کہ تو نے ہندوستان میں کیا عجیب چیز دیکھی، اس نے کہا کہ ایک آدمی قبر میں لیٹے ہوئے بھی لوگوں پر حکومت کر رہاہے۔



















































