اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اس کو اخلاص کہتے ہیں

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

مفتی محمد حسنؒ نے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی، شروع میں وہاں چھوٹی سی مسجد تھی اور چھوٹا سا جامعہ تھا، ان کے یہاں ایک ایسے عالم تھے جو حضرت مدنیؒ کی طرف کچھ میلان رکھتے تھے، اسی طرز پر جلسے اور سیاست۔۔۔ اور ان کا مزاج ذکر والا تھا، وہ نیک تھے، انہوں نے سوچا کہ اکٹھا رہنے میں آپس میں کہیں کوئی تنازعہ نہ کھڑا ہو جائے، اختلاف رائے نہ بڑھ جائے،

لہٰذا ایک سال مکمل ہونے پر انہوں نے اسی محلے میں ایک دوسرے جامعہ کی بنیاد رکھ دی۔جب انہوں نے نئے جامعہ کی بنیاد رکھی تو لوگ بڑے غصے میں آ گئے کہ اگر نیا جامعہ بنانا ہی تھا تو کہیں دور بنا لیتے، اسی جگہ، قریب میں نیا جامعہ کھولنا مناسب تو نہیں۔اس سلسلہ میں مفتی محمد حسن کے ایک صاحبزادے نے اپنا ایک واقعہ مجھے خود سنایا، فرمانے لگے کہ میں کسی کام کے لیے جا رہا تھا تو ایسے ہی میں نے اپنے والد صاحب سے کہا: ابا جی! آپ نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ ابا جی نے پوچھا: بیٹا! کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: امی نے کام سے بھیجا ہے، فرمایا: تم وہ کام کرکے آؤ، پھرمیں آج تمہیں اخلاص کا درس دوں گا۔جب میں وہ کام کرکے واپس آیا تو بیٹھ گیا اور عرض کیا: ابا جی! بتائیں، تو والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے سر پر کسی چیز کا اتنا بوجھ ہو کہ تم سے اٹھایا نہ جا رہا ہو، حتیٰ کہ گردن ٹوٹنے کے قریب محسوس ہو، تم انتہائی مشقت کے ساتھ وہ بوجھ لے کر جا رہے ہو، اور ایسے وقت میں کوئی دوسرا بندہ آ جائے اور یہ کہے کہ تم آدھا بوجھ مجھے دے دو میں اپنی ذمہ داری سے منزل پر پہنچاؤں گا، تو اب بتاؤ کہ وہ تمہارا دوست ہو گا یا دشمن ہو گا؟ میں نے کہا: حضرت! وہ دوست ہوگا،

تو ابا جی نے فرمایا: دیکھو بیٹا! یہ اتنا بڑا شہر تھا اور اس میں یہ ایک دارالعلوم تھا اور اتنے بڑے شہر کی مسؤلیت کا بوجھ صرف ہمارے سر پر تھا اب ایک دوسرا مدرسہ بن گیا ہے اور یوں قیامت کے دن جو پوچھا جائے گا اس کا بوجھ تقسیم ہوگا، اب ان بوجھ تقسیم کرنے والوں کو دوست سمجھیں یا دشمن سمجھیں؟سبحان اللہ! کتنے بڑے مسئلے کو کتنے پیار سے حل کر دیا، اس کو اخلاص کہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…