یورپ میں شادی کے بعد بیوی شوہر کی ملکیت سمجھی جاتی تھی اور اس کے لیے جو قانون تھا اس کا نام (Covertures) تھا۔ ایک اور کتاب (Uncle John,s Bathroom Reader Plunges Into History Again ) میں لکھا ہے کہ بیویوں کو فروخت کرنے کا تہوارمنایا جاتاتھا۔ یہ تہوار کب سے شروع ہوا
اس کا کسی کو علم نہیں مگرکئی رپورٹس میں برطانیہ میں بیویوں کو فروخت کرنے کے تہوارکی تصدیق کی گئی ہے اور واقعات بیان کیے گئے ہیں کہ اکثر کوئی دوست اپنے دوست کی بیوی خرید لیتا تھا۔ 1800 سے 1900 کے درمیان اس میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی کہ طلاق کی جگہ بیوی کو فروخت کرتے تھےکیونکہ عام لوگوں کے لیے طلاق آپشن ہی نہیں تھا، 1690 کے شادی کے قوانین کی رو سے شوہرکو اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے کی ضرورت ہوتی تھی، اس کے لیے طویل وقت درکار ہو تاتھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس ہو اور سارے گدھے اکھٹے ہوں رائے شماری ہو اور بحث کے بعد طلاق کی اجازت دی جائے۔ بیویوں کے فروخت کا سنہری دور 1780 سے 1850 ہے اس دوران صرف برمنھگم(برطانیہ کے شہر) میں بیویوں کو فروخت کرنے کے 300 واقعات پیش آئے۔ جسٹس جیمس نے اپنی کتاب میں 1901 میں بیویوں کو فروخت کرنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ 1913 میں بھی بیویوں کو اونے پونے داموں فروخت کر نے کے واقعات کتابوں میں موجود ہیں جیسے بکری یا گدھے یا گائے کے بدلے بیوی فروخت کرنے کے واقعات۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خواتین بھی شوہروں کی جانب سے فروخت کرنے پراعتراض نہیں کرتی تھیں، 1913 میں پہلی بار ایک عورت نے شوہر کی جانب سے فروخت کیے جانے پر عدالت سے رجوع کیا جبکہ اسلام نے ساڑھے چودا سو سال پہلے ہی شادی بیاہ اور طلاق ورجوع کے شاندار قوانین دینے
جن کو خلافت کے ذریعے نافذ کرنے کی بجائے جمہوریت میں ہی پیوندکاری اور پارلیمنٹ میں طلاق نکاح، عورتوں کے حقوق اور نسواں بل لانے والے یورپ کے بیوی فروشوں کے پیروکار ہیں۔



















































