ایک مرتبہ چار حضرات طواف کرکے بیت اللہ شریف کے قریب بیٹھے تھے، ایک کا نام تھا مصعب بن زبیرؓ اور دوسرے تھے، عبداللہ بن زبیر اور تیسرے تھے عبدالملک بن مروان اور چوتھے تھے عبداللہ بن عمرؓ اب یہ آپس میں بیٹھے تھے، تو ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی تمنائیں بیان کرو، کس کی کیا تمنا ہے؟ رکن یمانی کے پاس جائے اور اپنی اپنی دعا کرے۔
مصعب بن زبیر نے کہا کہ میرے دل کی تمنا ہے کہ میں عراق کا گورنربنوں اور میرے نکاں میں دو بیویاں ہوں، ایک سکینہ بنت حسین اور دوسری عائشہ بنت طلحہ، سکینہ بنت حسین کوتو سب جانتے ہی ہیں، سکینہ حضرت حسینؓ کی بیٹی، عائشہ بنت طلحہ یہ حضرت عائشہؓ کی بھانجی تھیں، نام ان کابھی عائشہ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی زیر تربیت رہی تھیں، ان سے انہوں نے حدیث کا اور تفسیر کا علم سیکھا تھا، ان سے حدیثیں روایت کی ہیں، محدثین نے، یہ اتنی پاک بازخاتون تھیں اللہ نے ان کو معرفت کا نورعطا کیاتھا، ان جیسی دانا عقل مند پاک بازاور دین دار عورت ان کے زمانہ میں کوئی دوسری نہیں تھی اور اللہ رب العزت نے ان کوظاہری حسن و جمال میں بھی عائشہ صدیقہؓ کی کاپی بنایا تھا، یہ بالکل خالہ پر گئی تھیں تو اس لحاظ سے یہ وہ رشتہ تھا کہ جس کے لیے اس دور کے نوجوان تمنا کیا کرتے تھے اور سکینہ حسینؓ کی صاحبزادی تھیں، ان کے ویسے فضائل بہت بیان ہیں وہ جگر گوشۂ نبی کی بیٹی تھیں، سادات میں سے تھیں، ان کی اپنی ایک تقویٰ کی زندگی تھی، فضیلت کی زندگی تھی تو انہوں نے یہ دو تمنائیں ظاہر کیں کہ اللہ کرے یہ دو رشتے میرے نکاح میں ہوں اور میں عراق کا گورنر بنوں۔عبداللہ بن زبیرؓ سے کہا اب آپ جا کر اپنی تمنا ظاہرکریں؟ وہ گئے اور دعا کی، الٰہی اس وقت تک موت نہ دیجئے جب تک کہ آپ مجھے حجاز مقدس کا حاکم و بادشاہ نہ بنا دیں اور زمانۂ خلافت میرے حوالہ کر دیں۔
پھر عبدالمالک بن مروان سے کہا کہ اب تم جا کر اپنی دعا کرو، دعا کے حمد و ثناء کے کلمات کہہ کر دعا کی، خدائے پاک مجھے مشرق و مغرب کا بادشاہ بنا دیں اور کوئی بھی میری مخالفت میں نہ آئے۔عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی دعا میں کہا کہ اس وقت تک موت نہ دیں جب تک کہ جنت کو میرے واسطے واجب نہ کر دیں۔ کہا کہ میں جنت میں اپنے رب کا دیدار چاہتاہوں۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ چاروں رشتہ داروں کی چاروں تمنائیں اللہ رب العزت نے ہوبہو پوری فرما دیں، جیسے نیت کی تھی سب کو ویسا مل گیا، قبولیت کا وقت تھا۔



















































