اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہمیں تو اپنوں نے لوٹا

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

جوں جوں شادی کے دن قريب آتے جارہے تھے ، اس کا خوف بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ اس کا ماموں زاد تھا ليکن انہوں نے سالوں پہلے ايک دوسرے کو ديکھا تھا کيونکہ اس کے ماموں کی فيملی يورپ ميں رہتی تھی اور ماموں ، مامی تقريبا” دو سال بعد پاکستان کا چکر لگايا کرتے تھے۔ ان کے تين بچے تھے جو 4، 5 سال بعد ان کے ساتھ آتے ليکن اسلام آباد والے بنگلے ميں رک جاتے کيونکہ ان کا آبائی شہرچھوٹا تھا

اور جديد سہولتوں کا فقدان تھا۔ اب ايسے ميں اچانک 4 ماہ پہلے ماموں ، مامی کا ان کے گھر آنا اور اپنے بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگنا کافی اچنبھے کی بات تھی مگر ماں باپ کو یہ سوچنے کی فرصت کہاں تھی؟ ان کا تو بوجھ ہلکا ہو رہا تھا۔ انہوں نے جہیز بنانے سے بھی منع کر ديا تھا۔ وہ لوگ تو پلکوں پر بٹھاۓ جانے کے قابل تھے کہ اتنے امیر ہوتے ہوۓ بھی اور يورپ ميں رہتے ہوۓ بھی ايک غير معروف شہر کی ايک متوسط گھر کی لڑکی کو اپنی بہو بنا رہے تھے اور کوئی مطالبہ بھی نہيں تھا۔ انہيں اور کیا چاہيے تھا ۔ لوگ تو باہر جانے کے لیے کيسے کيسے پاپڑ بيلتے ہیں اور انہيں تو بيٹھے بٹھائے اتنا اچھا اور سگا رشتہ مل گيا تھا۔ سائرہ اسی سال ايف اے کر کے فارغ ہوئی تھی اورکالج جانے کی وجہ سے اس نے باہر والوں کے ہزاروں قصے سن رکھے تھے وہ ايک حقیقت پسند لڑکی تھی اور اس کا خوف بے جا نہيں تھا کہ اچانک ان لوگوں کی محبت کا سمندر اتنی ٹھاٹھيں کيوں مارنے لگا۔ اتنی اتنی امیر اور خوبصورت لڑکيوں کو چھوڑ کر انہيں میں ہی کیوں نظر آئی؟ وہ حساس طبيعت کی مالک تھی اور جانتی تھی کہ اس کے والدين اس رشتے سے بہت خوش ہيں کہ ایک تو بوجھ بھی ہلکا ہو جاۓ گا اور بيٹی اپنوں ميں جاۓ گی ۔ ساتھ ہی ساتھ لندن جا کر شايد بھائی کو بلانے کا بھی کوئی بندوبست کر دے گی تو ہماری زندگی سکھی ہو جاۓ گی۔اس ليے وہ چاہتے ہوۓ بھی اپنے خدشوں کو زبان نہ دے سکی اور وہ دن آ گيا جس دن اسے رخصت کر ديا گيا۔

وہ رخصت ہو کر اسلام آباد والے بنگلے ميں آگئی۔ شادی کے شروع کے دنوں ميں اسے ماحول کچھ کھچا کھچا سا لگا ۔ يوسف (اس کا شوہر) اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت لیے ديے ميں رہتا اور اس کو بھی کوئی خاص توجہ نہيں ديتا ۔ ماموں مامی کا رویہ اس کے ساتھ بہت محبت بھرا تھا ، وہ اس پر صدقے واری جاتے اوراس کا بہت دھیان رکھتے ۔ اس کا ویزا اپلائی کر ديا گیا ۔ يوسف تو 15 دن بعد واپس چلا گيا اور وہ ماموں مامی کے پاس ہی رہ گئی ۔ کبھی کبھارشدت سے اس کا دل چاہتا کہ ان سے يوسف کے اس رویے کی وجہ پوچھے مگر وہی مروت آڑے آ جاتی۔ والدين کے گھر جاتی تو وہ اسے ديکھ کر نہال ہو جاتے اور بلائیں ليتے نہ تھکتے ۔ ايسے ميں بھی اس کی زبان کو تالا لگ جاتا۔ خدا خدا کر کے اس کا ویزا لگ گيا اوروہ نئی زندگی کے خواب لیے لندن پہنچ گئی۔ دو چاردن تو ملنے ملانے والے آتے رہے اس لیے مصروفيت رہی ۔ جب زندگی ايک ڈگر پر چلنا شروع ہوئی تو اسے محسوس ہونے لگا کہ سب کچھ اتنا سيدھا نہيں ہے ، جتنا نظر آتا ہے ۔ یوسف کا دیر سے گھر آنا ، چپ چاپ کمرے ميں چلا جانا ،والدين سے کم سے کم بات کرنا، اس کی باتوں پر سر ہلاتے رہنا ، کوئی بحث نہ کرنا ، اس کا خيال رکھنا ليکن ہر ويک اينڈ پر بزنس ٹور کا کہہ کر گھر سے دو دن غائب ہوجانا، اور ان دو دنوں ميں اس کے ماموں مامی کا اس کا ضرورت سے زيادہ خيال رکھنا ، کہيں کچھ تھا جو اس سے چھپايا جا رہا تھا۔ يہ راز زیادہ عرصے تک راز نہ رہ سکا۔ تيں ماہ گزر گۓ،

اسے لگا کہ یوسف اسے کچھ کہنا چاہتا ہے ليکن کہہ نہيں پاتا۔ ایک دن ہمت کر کے اس نے خود ہی پوچھ ليا ۔ یوسف کا انکشاف اس کے لیے کسی دھماکے سے کم نہيں تھا۔ اس نے بتايا کہ وہ تو يہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔ اس کی ايک گرل فرینڈ تھی، وہ اسے دل و جان سے چاہتا تھا اوريہ بات اس نے اپنے والدين کو بتا دی تھی۔ وہ طبعا” نرم دل تھا اورکسی کو دکھ نہيں دے سکتا تھا۔ اس لیے والدين کے عزت اور محبت کے واسطوں نے اسے مجبور کر ديا کہ وہ ان کی بات مان لے لیکن اس نے کبھی اس رشتے کو دل سے قبول نہيں کيا تھا اور وہ اپنی گرل فرينڈ کے ساتھ بہت خوش تھا۔ اب وہ اس دکھاوے سے تنگ آ چکا تھا اس لیے اس نے سائرہ پر حقيقت کھول دی ۔ وہ اسے دکھ نہيں دينا چاہتا تھا ليکن دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ سائرہ تو جیسے پتھر کی بن گئی تھی ۔ اتنا بڑا دھوکا او وہ ابھی اپنے سگے رشتوں نے کيا ۔ اعتماد کيسے ٹوٹا تھا ، خواب کيسے بکھرے تھے ، کوئی اس بات کا اندازہ نہيں کر سکتا تھا۔ وہ کتنے دن توغم کی کيفيت ميں رہی ، منہ سے ایک لفظ نہ کہا اور ماموں مامی اسے اپے والدين سے دوری کا احساس سمجھتے رہے ۔ اسے سنبھلے میں کچھ دن لگ گۓ اور اس عرصے ميں اس نے اپنے سود وزیاں کا پورا پورا حساب لگا ليا ۔ اس کے نصيب ميں خسارہ ہی خسارہ تھا۔ وہ اب اگر يہ گھر چھوڑ دیتی تو اس ديار غیر ميں کہاں جاتی ؟ پاکستان واپس جا نہيں سکتی تھی کیونکہ والدين کی اتنی حيثيت نہیں تھی کہ اسے دوبارہ اپنے گھر ميں جگہ دے سکتے اور نہ وہ انہيں اپنی طرف سے دکھ ميں مبتلا کرنا چاہتی تھی۔

اب اچھی يا بری جيسی بھی تھی زندگی یہاں ہی گزارنی تھی اور والدين کو يہ بتانا تھا کہ وہ بہت خوش ہے، یوسف اس کا بہت دھيان رکھتا ہے (وہ اس دن کے بعد سے گھر نہيں آيا تھا)۔ ماموں مامی اس پر صدقے واری جاتے ہيں (راز کھلنے کے بعد تو جیسے وہ اسے فالتو چيز سمجھ کر بھول گۓ تھے ، سب لاڈ و پيار ختم ہو چکا تھا)۔ بقول ان کے اسے ان کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا کہ وہ اسے اس ماحول سے نکال کر کھلی فضا میں لے آئے تھے اور يہ ان کا احسان عظیم تھا کہ وہ ابھی بھی ان کے ساتھ رہ رہی تھی ۔ ماموں نے اپنی بہن کی مدد کی غرض سے ان سے رشتہ جوڑا تھا اوراب اگروہ واپس جانا چاہتی تو انہیں کوئی اعتراض نہيں تھا لیکن وہ یہ نہيں کر سکی تھی ۔ رہے دوسرے ماموں زاد تو انہیں اس سے کوئی غرض نہيں تھی کہ اس کے ساتھ کيا ہو رہا ہے۔ وہ اپنی اپنی دنياؤں ميں مگن تھے ۔ کسی کو نہ اس کا دکھ نظر آتا تھا اور نہ کسی کو فرصت تھی کہ اس کے دکھ بانٹتا پھرتا ۔ البتہ کام کے وقت اسے ہی اواز دی جاتی اور وہ کسی معمول کی طرح کام کر ديتی اور پھر پھريوں ہوا کہ وہ اپنوں سے جنگ ميں جان کر ہار گئی کہ يہی وقت کا تقاضا تھا اور اسی میں بڑوں کی منشاء تھی ۔ اس کی زندگی ، اس کی انا اس کی عزت نفس سب اس جنگ ميں کام آ گئيں ۔۔ کيونکہ اچھی بچياں بس خاندان کی عزت بچاتی ہيں اور اپنی عزت کی پرواہ نہيں کرتيں جو روزانہ نظروں سے ، باتوں سے اور انداز سے تار تار ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…