حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بیوی کو ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایک صاحب نے نو سال تک اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے گھر نہیں جانے دیا۔ خود سال میں دو مرتبہ اپنے والدین کو ملنے کے لیے جاتا تھا، لڑکی کے والد حج کے موقع پر مجھے ملے، ان کی آنکھوں سے اتنے موٹے موٹے آنسو ٹپک رہے تھے،
وہ کہنے لگے کہ نو سال سے ہم اپنی بیٹی کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔جب ان سے پوچھا: کیوں نہیں جانے دیتے؟ تو جواب دیا کہ بس میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ یہیں رہے۔ اس کو اس طرح باندھ کے رکھنے کا کوئی شرعی حق ہے تمہارا؟ خود سال میں ماں باپ کا خیال کرنے کے لیے دو چکر اور بیوی کو نو سال میں ایک دفعہ بھی نہیں جانے دیا، خود ہر تیسرے دن ماں باپ کو فون کرتے ہیں اور بیوی کو نو سال میں ایک مرتبہ بھی فون نہیں کرنے دیا۔ یہ دین دار لوگوں کا حال ہے، ہم فاسق و فاجر کی کیا بات کریں؟ صوفی صاحب کی زندگی کا یہ حال ہے، کیا یہ عورت قیامت کے دن اپنے حق کا مطالبہ نہیں کرے گی؟ پھر سمجھ لگ جائے گی، بعض لوگ تو ایسے خاوند کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بڑا اچھا خاوند ہے جو بیوی پر حاوی ہے، نہیں یہ تو سراسر ظلم ہے۔حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک آدمی کو دیکھا اپنی زندگی میں بڑا افسر تھا، اس نے ساری زندگی اپنی بیوی کو بہت دبا کر رکھا، بچے اس کے پڑھ لکھ کر بڑے افسر بن گئے، انہوں نے ماں کو دیکھا کہ اس نے بہت مظلومیت کا وقت گزارا ہے، وہ سارے ماں کے ساتھ ہو گئے،اب ادھر یہ صاحب بوڑھے ہو گئے تو ایک دن بیوی نے کہا کہ جناب گھر پر سے چھٹی، بیٹوں نے بھی کہہ دیا جو امی کہہ رہی ہیں، وہی ہوگا،
اب تک آپ نے جو مرضی آئی وہ کیا، اب امی کی مرضی چلے گی، گھر سے اس کو نکال دیا گیا، کچھ دن وہ مسجد میں رہا نہ کوئی اس کا کھانا پکانے والا؟ نہ کوئی اس کو پاس بٹھانے والا، اتنا اس کا بڑھاپا خراب ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہم کانپا کرتے تھے، اسے دیکھ کر، دھکے کھاتا تھا، روتا تھا بیٹھ بیٹھ کر، گناہ جوانی میں کیے اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا بڑھاپے میں دی۔



















































