حضرت سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ،میں اپنی قوم کے سات افراد کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو ہمارا انداز گفتگو، نشست برخاست کا سلیقہ اورلباس پسند آیا ۔ آپﷺ نے فرمایا: “تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم مومن ہیں۔” اس پر آپﷺ مسکرانے لگے اور فرمایا: “ہر شے کی کوئی حقیقت ہوتی ہے، تمہارے اس قول کی کیا حقیقت ہے؟” ہم نے کہا: “پندرہ خصلتیں ہیں،
ان میں سے پانچ تو وہ ہیں جن کے بارے میں آپﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے، پانچ وہ ہیں جن کے بارے میں آپﷺ کے قاصدوں نے ہمیں تلقین کی ہے اور پانچ وہ ہیں جنہیں ہم نے زمانہ جاہلیت میں اختیار کیا تھا اور اب تک ان پر قائم ہیں، لیکن اگر ان میں سے کسی کو آپﷺ ناگوار سمجھیں گے تو ہم اسے ترک کر دیں گے۔” آپﷺ نے فرمایا: “ذرا وضاحت تو کرو۔” ہم نے عرض کیا: “آپﷺ نے ہمیں اللّٰہ پر، اُس کے ملائکہ، اُس کی کتابوں، اُس کے رسولوں اور تقدیر کے مِن جانب اللّٰہ ہونے پر ایمان کا حکم دیا ہے۔” آپﷺ نے فرمایا: “میرے قاصدوں نے تمہیں کیا تلقین کی ہے؟” ہم نے عرض کیا: “انھوں نے کہا ہے کہ اللّٰہ کے معبود ہونے، اس کے لاشریک ہونے اور آپﷺ کے اللّٰہ کے بندے اور رسول ہونے کی گواہی دیں، فرض نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، ماہ رمضان کے روزے رکھیں اور استطاعت رکھنے کی صورت میں بیت اللّٰہ کا حج کریں۔” پھر آپﷺ نے پوچھا: “وہ پانچ خصلتیں کون سی ہیں جن کو تم نے زمانہ جاہلیت میں اختیار کیا؟” ہم نے عرض کیا: “سہولت اورخوشحالی میں اللّٰہ کا شکر ادا کرنا ، ابتلاء و آزمائش کے وقت صبر کرنا، جنگ کے موقع پر جم کر لڑنا اور بہادری کے جوہر دکھانا، اللّٰہ کی قضاء و تقدیر پر راضی رہنا اور دشمن کی مصیبت سے خوش نہ ہونا، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے صحابہ سے فرمایا: “یہ لوگ تو بڑے سمجھ بوجھ اور سلیقہ والے ہیں، یہ انبیاء کی عمدہ اور بہترین خصلتوں کے حامل ہیں۔
” پھر آپﷺ ہمیں دیکھ کر مسکرائے اور ارشاد فرمایا: میں تمہیں پانچ مزید خصلتوں کی وصیت کرتا ہوں تاکہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اندر خیر کی خصلتیں پوری کر دے۔ جو تم نے کھانا نہیں ہے اسے جمع بھی نہ رکھو (یعنی فاضل اور ضرورت سے زائد اور بچا ہوا کھانا صدقہ کر دو) جس مکان میں تم نے رہائش نہیں رکھنی اسے مت بناؤ
(یعنی صرف ضرورت کے مطابق مکان بناؤ، ضرورت سے زیادہ تعمیر نہ کرو) اور جس فانی دنیا کو چھوڑ کر تم نے آگے روانہ ہونا ہے اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو (یعنی حرص و ہوس کے معاملات میں مقابلہ نہ کرو بلکہ خیر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو)، جس رب ذوالجلال کے پاس تم نے جانا ہے اور محشر میں اس کے سامنے جمع ہونا ہے، اس پاک پروردگار سے ڈرو اور جس دارِ آخرت کو تم نے سدھارنا ہے اور وہاں دائمی سکونت اختیار کرنی ہے اس کی فکر کرو۔



















































