دو قیدی تھے، ان کو جیل میں ڈالا گیا، ان کو تھوڑے سے وقت کے لیے نکالا گیا تاکہ وہ تازہ ہوا کے اندر چل پھر لیں، پھر دس پندرہ منٹ کے بعد ان کو دوبارہ قید کر دیا گیا، جب دوبارہ جیل میں بند ہو گئے تو ایک نے کہا: یار! لگتا ہے کہ باہربارش ہوئی ہے، دوسرے نے کہا: ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ باہر بارش ہوئی ہے، ایک نے پوچھا:تمہیں کیسے پتہ چلا؟
اس نے کہا: میں نے زمین پر دیکھا کہ بہت کیچڑ تھا اور ہر طرف گند پھیلا ہوا تھا، پھر اس نے دوسرے سے پوچھا: تمہیں کیسے پتہ چلا؟ وہ کہنے لگا کہ میں نے درختوں کو دیکھا کہ ان کے پتے دھلے ہوئے تھے اور پودوں کے پھول بہت ہی مہک رہے تھے اور تر و تازہ نظر آ رہے تھے۔ مجھے اس سبزے کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ بارش ہوئی ہے، یہی مثبت اور منفی سوچ کا فرق ہے کہ دیکھیں! دو بندے ہیں، ایک کی نظر نیچے کیچڑ پر پڑی اوردوسرے کی نظر پھولوں اور پتوں پر پڑی۔
تعبیر کا فرق
ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اس کے کئی دانت گر گئے، وہ بڑا پریشان ہوا کہ خواب میں میں نے دانت گرتے ہوئے دیکھے، اس نے صبح تعبیر کرنے والے کو بتایا، اب وہ تعبیر کرنے والا ذرا رف قسم کا بندہ تھا، اس نے خواب سن کر کہا: بادشاہ سلامت! آپ کے دانت گرے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے سامنے اپنے کئی رشتہ داروں کو مرتے دیکھیں گے، اب جیسے ہی اس نے تعبیر بتائی تو بادشاہ کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے کہا، اسے دوچار جوتے لگا دو اور یہاں سے بھگا دو، یہ ایسی بری تعبیر بتا رہا ہے، اس کے بعد وہ پھر بھی خواب کی وجہ سے پریشان تھا کہ آخر اس کی کوئی نہ کوئی تعبیر تو ہوگی،
چنانچہ ایک اور بندے کو بلایا گیا، وہ بندہ ذرا سمجھدار تھا، اس کوبات کرنے کا سلیقہ آتا تھا، لہٰذا جب اس نے خواب سنا تو اس نے کہا: بادشاہ سلامت! یہ بہت اچھا خواب ہے، آپ کو مبارک ہو، بادشاہ نے پوچھا: کیسے؟ اس نے کہا: آپ اپنے تمام رشتہ داروں سے زیادہ لمبی عمر پائیں گے، بادشاہ اس تعبیر سے بہت خوش ہوا اور کہا کہ اس کو انعام دے کر روانہ کر دو۔



















































