حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست تھے، اپنی بیٹی کا واقعہ وہ سنایا کرتے تھے، اللہ نے ان کو بیٹی دی، جو چاند جیسی خوبصورت تھی، ذہین اتنی کہ میڈیکل ڈاکٹر بن گئی، سینکڑوں رشتے اس کے آئے، دیکھنے میں حور پری تھی اور ایم بی بی ایس اوپر سے بن گئی، بڑے بڑے رشتے آئے، مگر اس میں تکبر تھا جو آتا اس کو حقارت سے ٹھکرا دیتی ، اس کی کہیں نظر جمتی ہی نہیں تھیں،
نیک رشتے بھی آئے، مال والے رشتے بھی آئے، ذرا ماں باپ نے رشتے کی بات کی وہ اس میں دس عیب نکالتی کہ یہ بھی کوئی رشتہ ہے، آ جاتے ہیں ٹکے ٹکے کے لوگ، ہمیشہ تکبر کی بات کرتی، ماں باپ اسے سمجھاتے، بیٹی نعمت کی ناقدری نہ کر، جہاں تیرا دل مطمئن ہوتا ہے، بتاؤ ہم تمہارا رشتہ کر دیں گے، اسے کوئی پسند ہی نہ آیا، خوبصورت سے خوبصورت نوجوان، نیک سے نیک نوجوان، بڑی عزت والی فیملی کے نوجوان، ہر ایک کو وہ حقارت سے ٹھکرا دیتی، وہ خود کہتے تھے میری بیٹی پر اللہ کی پکڑ آ گئی، اللہ کی پکڑ کیسی آئی کہ ایک مرتبہ اس نے کوئی آپریشن کیا تو اس آپریشن تھیٹر میں پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس کے ہاتھ کی انگلیوں کی جلد مردہ ہونی شروع ہو گئی، ایک دو مہینہ کے اندر یہ دونوں ہاتھ کی جلد بالکل مردہ ہو کر بوڑھوں جیسی ہو گئی، اب ایسی حور پری لیکن ہاتھ دیکھو تو بوڑھوں والے، ہر وقت ہاتھ چھپائے رکھتی تھی، دستانے پہنے رکھتی تھی، اب رشتے بھی آنے بند ہو گئے، جو عورت آتی اسے دیکھتی، اس کے ہاتھ دیکھتی کہتی مجھے اپنے بیٹے کے لیے یہ نہیں لینا، انتظار کرتے کرتے عمر بتیس سال ہو گئی، اب اس کو پتہ چلا کہ اب میرا رشتہ کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا، جتنا تکبر کرتی تھی اللہ نے اتنی ہی ناک رگڑوائی، اب نمازیں پڑھتی ہے اب سجدے کرتی ہے، اب روتی ہے، اب دعائیں مانگتی ہے، اب اس کا رشتہ کرنے والا کوئی نہیں،
اس کے والد کوئی عمل پوچھنے آئے اور آ کر انہوں نے یہ خود تفصیل بتائی، کہنے لگے اتنی پریشان ہے کہتی ہے کہ دنیا میں اللہ نے میری زندگی کو جہنم بنا دیا، اللہ تعالیٰ نے حسن و جمال دیا تھا، دماغ خراب ہو گیا، جب اللہ تعالیٰ نعمت دے تو انسان نعمت کی قدر کرے، جھکے اللہ کے سامنے، دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا، تو کئی مرتبہ سزا ایسے ملتی ہے کہ بندے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔



















































