سلطان محمود ایک نیک بادشاہ تھا، غزنہ کا رہنے والا تھا، ایک دیہاتی نوجوان اس کی خدمت میں آیا، بادشاہ کو وہ پسند آ گیا، بادشاہ اسے اپنی خدمت میں رکھتا تھا، اس سے مشورہ کرتا تھا، اس وقت جو وزراء تھے ان کو یہ بات بری لگتی کہ نہ اس کی شکل ہے، نہ عقل ہے، نہ تعلیم ہے، نہ کوئی لائق بندہ ہے، پتہ نہیں بادشاہ کو اس کی کون سی بات پسند ہے،تو وہ اندر اندر ہی جلتے رہتے،
چنانچہ اس کوشش میں لگے رہتے کہ کبھی کوئی ایسا موقع ملے کہ ہم بادشاہ سے یہ بات کریں، ایک دن انہوں نے بات کی کہ بادشاہ سلامت! آخر کیا چیز ہے کہ آپ اس پر اتنے فدا ہیں، جو محبت کی نظر اس پر اٹھتی ہے، وہ ہم پر نہیں، بادشاہ نے کہا کہ اچھا، ہم بتلائیں گے، اگلے دن بادشاہ نے ایک پھل کا انتظام کیا جو انتہائی کڑوا تھا، کاشیں بنوائیں، اور ان معترضین کو ایک ایک کاش دی، جس نے منہ سے لگائی تھو تھو کرکے پھینک دی کہ بہت کڑوی ہے، بادشاہ سلامت یہ بہت کڑوی ہے، بادشاہ نے ایاز کو دیکھا کہ وہ اس پھل کو بڑے مزہ سے کھا رہا ہے، کوئی ناگواری کے آثار نہیں، چہرے کے اوپر کوئی غلط تاثر محسوس نہیں، کھلے چہرے کے ساتھ ، مسکراتے چہرے کے ساتھ کھا رہا ہے، بادشاہ نے پوچھا ایاز! کیا یہ کڑوا نہیں ہے، بادشاہ سلامت کڑوا تو ہے، تو پھر آپ مزہ سے کھا رہے ہو؟ جی بادشاہ سلامت! میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جس ہاتھ سے میں آج تک میٹھی چیزیں لے کر کھاتا رہا، اگر آج کڑوی بھی مل گئی تو اسے خوشی سے کیوں نہ کھاؤں؟ بادشاہ نے کہا دیکھو اس کے اندر کس درجہ کی قدردانی ہے کہ جس بادشاہ کے ہاتھوں آج تک میٹھی چیز ملتی رہی اور میں کھاتا رہا، آج اگر کڑوی بھی مل گئی تو شکوہ کی کیا ضرورت ہے؟ لہٰذا مسرت کے ساتھ کھاتا رہا، جب کہ تم لوگ تو تھو تھو کرنے لگے، تمہارے اندر قدردانی نہیں، جس پروردگار کی طرف سے ہمیں زندگی بھر خوشیاں ملتی رہتی ہیں، کبھی کوئی بیماری آ گئی، تکلیف آ گئی تو بے صبری کی کیا ضرورت؟ کاش کہ اس ان پڑھ نوجوان والی صفت ہمارے اندر بھی آ جاتی۔



















































