۔ ایک بڑے میاں ڈاکٹر کے پاس گئے۔اس نے کہا: ڈاکٹر صاحب! نظر کمزور ہو گئی ہے۔ڈاکٹر نے کہا: بڑھاپا ہے۔اس نے پھر کہا: ڈاکٹر صاحب! اونچا سنائی دیتا ہے۔ڈاکٹر نے کہا: بڑھاپاہے۔اس نے کہا: ڈاکٹرصاحب! میرے چار پانچ دانت بھی گر گئے ہیں۔ڈاکٹر نے کہا: بڑھاپاہے۔اس نے کہا: ڈاکٹر صاحب! مجھے چیزیں یاد نہیں رہتیں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا: بڑھاپا ہے۔جب ڈاکٹر نے بار بار کہا کہ بڑھاپا ہے، بڑھاپاہے،
تو بوڑھے کو غصہ آیا اور غصے میں کہنے لگا: یہ کیا؟ بڑھاپا ہے، بڑھاپا ہے۔ڈاکٹر نے کہا: بڑے میاں! یہ بھی بڑھاپا ہے۔ ایک انجینئر اپنے کمرے میں بیٹھاکوئی ڈرائینگ بنا رہا تھا، اس کا اکلوتا بیٹا بھی گھر میں تھا، اس کی بیوی کسی کام کے سلسلے میں کہیں گئی ہوئی تھی، اس لیے بچہ بھی اس کو سنبھالنا تھا، اب بچہ بھی اسی کے کمرے میں تھا، کبھی وہ اس کتاب کو چھیڑتا کبھی وہ اس کتاب کو۔۔۔ ہم نے اکثر و بیشتر دیکھا ہے کہ انجینئرز اور ڈاکٹرز کے کمروں کی حالت عجیب ہوتی ہے، کہیں کتابیں پڑی ہوتی ہیں، کہیں کاغذ بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان بے چاروں کے پاس انکو ترتیب سے اور صفائی سے رکھنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی، ان کی گاڑیاں بھی قابل دید ہوتی ہیں اور ان کے کمرے بھی قابل دید ہوتے ہیں، ہاں! اگر کوئی صفائی رکھنے والاہو تو الگ بات ہے، ورنہ اکثر و بیشتر ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے، اپنی اپنی طبیعت ہوتی ہے۔۔۔ بہرحال انجینئر کے ہر طرف کاغذ بکھرے ہوئے تھے، ادھر بھی کاغذ ادھر بھی کاغذ، چنانچہ جب بچہ کسی کاغذ کو ہاتھ لگاتا تو وہ کہتا : بیٹا! یہ ڈرائینگ ہے، اس کو ہاتھ نہ لگاؤ، پھر وہ دوسرے کاغذ کو ہاتھ لگاتا تو وہ کہتا: بیٹا! اسے ہاتھ نہ لگاؤ یہ میرا قیمتی کاغذ ہے، اب وہ کام کر ہی نہیں پا رہا تھا، بچہ اسے خوب ڈسٹرب کر رہا تھا، اس کا یہ بھی جی چاہ رہا تھا کہ میں اپنے بچے کو ڈانٹوں یا کمرے سے نکالوں، آخر اس کا بیٹا تھا، دل کا ٹکڑاتھا۔
اس کے ذہن میں ایک خیال یا کہ میں اس بچے کو کہیں مصروف کرتاہوں، چنانچہ اس کے سامنے ایک اخبار پڑا ہوا تھا اور اس کے اوپر پوری دنیا کا نقشہ بنا ہواتھا، اس نے کیا کیا؟ اس نے قینچی لی اور اس دنیا کے نقشے کے آٹھ دس ٹکڑے کر دئیے اور بچے سے کہا: بیٹا! میں تمہیں ٹیپ بھی دیتاہوں اور میں تمہیں یہ چند کاغذ دیتا ہوں،
اگر تم ان کو ترتیب سے جوڑ کر لاؤ گے تو میں تمہاری پسند کی ونیلا آئس کریم تمہیں لے کر دوں گا، وہ بچہ تھا اس لیے ونیلا آئس کریم کا نام سن کر خوش ہو گیا، چنانچہ وہ ٹیپ اور کاغذ کے ٹکڑے لے کر دوسرے کمرے میں چلاگیا، اب انجینئر صاحب نے سکھ کا سانس لیا کہ اب یہ دو گھنٹے وہیں مصروف رہے گا اور میں اپنا کام نکال لوں گا۔ابھی پانچ منٹ نہیں گزرے تھے کہ بچہ واپس آیا اور کہنے لگا:
ابو جی! میں نے اپنا کام کر لیاہے، آپ دیکھیں، جب اس نے وہ کاغذ لے کر اپنے سامنے رکھا تو بڑا حیران ہوا کہ سمندر سے سمندر ٹھیک ملے ہوئے ہیں، پہاڑوں سے پہاڑ ٹھیک ملے ہوئے ہیں، ملکوں کی حدود بالکل اپنی جگہ پر تھیں اور اس بچے نے بالکل ٹھیک سب چیزوں کو جوڑ دیا، وہ حیران ہو گیا کہ اگر میں انجینئر بھی جوڑنے بیٹھتا تو مجھے بھی اتنا وقت لگتا اور بچے نے تو کمال کر دیا کہ پانچ منٹوں میں جوڑ کر لے آیا،
چنانچہ وہ حیران ہو کر بچے سے پوچھنے لگا: بیٹا! تم نے اتنی جلدی یہ نقشہ کیسے جوڑ لیا؟ تو بچے نے مسکرا کر اس کاغذ کو الٹ دیا، جب اس نے الٹ کر رکھا تو اس نے دیکھا کہ دوسری طرف ایک عورت کی بڑی سی تصویر بنی ہوئی تھی، بچے نے وہ تصویر جوڑی اور دوسری طرف سے دنیا کا نقشہ خود بخود جڑ گیا۔تو بھئی! ہو سکتاہے کہ یہ مسئلہ ہماری نظر میں دنیاکا نقشہ جوڑنے کی طرح مصیبت ہو اور ہو سکتاہے کہ دوسرے بندے کے سامنے اس تصویر کو جوڑنے کی طرح بہت آسان ہو اس لیے غصے میں آنے اور پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جو بندہ اس حقیقت کو سمجھ لیتاہے اس کی زندگی کے اندر خوشیاں آ جاتی ہیں۔



















































