اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

تیری بیٹی کو برقعہ میں ہی موت آئے گی

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ہمارے جامعہ میں ایک مرتبہ ایک بچی پڑھنے آئی تو اس نے دوپٹہ اپنایا ہواتھا، دسویں کا امتحان شاید پاس کرکے آئی تھی، اس نے میرے گھر والوں کوبتایا کہ میں غریب گھرکی بچی ہوں، میں نے حضرت کا بیان سنا، میرے دل میں بات آئی کہ میں دین کا علم پڑھوں، میرے والد کی حیثیت تو اتنی بھی نہیں کہ وہ مجھے کتاب خرید کر دے سکیں،

البتہ میں ان سے اجازت لے سکتی ہوں کہ میں آگے اسکول پڑھنے کی بجائے مدرسہ پڑھوں گی، گھر والوں نے مجھے بتایا، ہم نے ان سے کہا کہ فوراً داخلہ دے دیں، انہوں نے کہا جی وہ تو پردہ ہی نہیں کرتی۔ ہم نے کہا انشاء اللہ جامعہ میں آئے گی تو پردہ بھی کرے گی۔ کیوں نہیں کرے گی؟ ہم نے اسے داخلہ بھی دے دیا، ہدیہ بھی دے دیا، اب ایک دو دن کے اندر بچی کی طبیعت بھی دین پر لگ گئی تھی اور اس نے باقی بچیوں کو بھی دیکھا کہ سب پردے میں آتی ہیں تو اب اس نے برقعہ میں آنا شروع کر دیا، اللہ کی شان، ایسی ذہین بچی نکلی کہ چار سال ہمارے پاس پڑھی، چار سالوں میں ہرسال وہ جامعہ میں فرسٹ آتی رہی، عمر میں سب سے چھوٹی ہوتی تھی اور نمبر میں سب سے بڑی ہوتی تھی، ایسی فوٹو گرافک میموری میں نے اپنی زندگی میں بہت کم لوگوں کی دیکھی ہے، ایسی بلا کی ذہین تھی وہ بچی، حیران کر دیا اس نے، خیر وہ بڑی تقیہ نقیہ تھی، اس نے دینداری پرہیزگاری کی زندگی اپنا لی، ذکرواذکار کرنے لگ گئی، بیعت ہوئی، اس کی زندگی دین پر بہت لگ گئی،اب اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ اس نے جب برقعہ کرنا شروع کر دیا تو ماں باپ کو فکر لگ گئی کہ بیٹی کو تو ہم نے پڑھنے بھیجی تھی، مولون بننے کے لیے تو نہیں بھیجی تھی، انہوں نے جامعہ میں پیغام بھجوایا کہ جی ہم نے اپنی بچی کو پڑھنے کے لیے بھیجا تھا، اس لیے تو نہیں بھیجا تھا کہ اس کومولوی بنادیں،

خیر ہم نے سن لی یہ بات، اس معاملہ چلتا رہا، اب اس بچی نے الحمدللہ سب غیر محرموں سے پردہ کر لیا، وہ قریبی رشتہ دار تھے، یا دوسرے تھے اب اس پر اور تلملائے، انہیں دنوں میں اس کی کزن کی شادی تھی تواس کے والدین نے کہا کہ تم نے بھی ہمارے ساتھ جانا ہے، وہ آئی چھٹی لینے کے لیے تو اہلیہ نے اس سے پوچھا: بھئی آپ وہاں جا رہی ہو تو پھر آپ کے لیے تو مشکل بن جائے گی،

وہ کہنے لگی جی میں نے دل سے پردہ کر لیا، فکر مت کریں میں شادی بھی اٹینڈ کروں گی، سب کاموں میں حصہ بھی لوں گی اور بے پردگی بھی نہیں ہونے دوں گی۔ اللہ اکبر۔پھر واپسی میں آ کر اس نے بتایا کہ میں برقعہ میں گئی، سات دن اس گھر میں برقعہ کی حالت میں رہی، اتارا ہی نہیں، کہنے لگی میں نے برقعہ ہی میں رہ کر برتن دھوئے، کچن کے کام بھی کیے، گھر میں میرے کزن پھرتے تھے،

کسی کو جرأت نہیں تھی مجھ سے بات کرنے کی، ڈرتے تھے مجھ سے، اور میں اپنے برقعہ میں اپنے کام بھی کر رہی ہوتی، کہنے لگی اس طرح میرے کزن جومیرے ساتھ ہنسی مذاق پہلے کرتے تھے، انہوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح اس کودیکھیں، سات دن نہ دیکھ سکے تو میری امی کو کہنی لگے کہ لگتا ہے کہ تیری بیٹی کو برقعہ میں ہی موت آئے گی،

تو وہ کہنے لگی ابھی بھی مجھ سے خوش میں نے وہاں وقت گزارا، میں نے وہاں کام کیا، جب میں لڑکیوں میں ہوتی توچہرے سے پردہ ہٹالیتی اور جب میں ادھر ادھر ہوتی تو میں اپنے چہرے پر پردہ کرکے آنکھیں کھلی ہوتی تو میں اپنا کام کرتی، اب اگر ایک بچی دل سے پردہ کو اپناتی ہے تو وہ ایسے جشن میں بھی اپنے آپ کو غیر محرم سے بچا سکتی ہے، تو کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ جی پردہ کرنے سے رشتہ داریوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…