اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

پیسے کھرے مل گئے

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

امام اعظم ابو حنیفہؒ شروع میں کپڑے کی دکان کیا کرتے تھے۔۔۔ اس امت کو تجارت دو بندوں نے ہی کرکے دکھائی ہے، صحابہؓ میں سے صدیق اکبرؓ نے اور ائمہ میں سے امام اعظمؒ نے۔۔۔ ان کی دکان میں کپڑے کا ایسا تھان تھا جس میں کوئی داغ لگا ہوا تھا، اس لیے امام صاحبؒ نے اپنے ملازم سے کہا ہوا تھا کہ اگر تم سے کوئی بندہ یہ کپڑا خریدنے کے لیے آئے تو پہلے تم نے اس کو اس کپڑے کا یہ عیب دکھانا ہے،

پھر بیچنا ہے، اللہ کی شان کہ وہ اس بات کو بھول گیا، چنانچہ ایک بندہ آیا اور وہ عام روٹین کے حساب سے وہ تھان خرید کر لے گیا، جب امام صاحبؒ نے دیکھا تو پوچھا: کیا وہ تھان بک گیا؟ ملازم نے کہا، جی ہاں، پوچھا: کب بیچا ہے؟ اس نے بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بیچا ہے۔ امام صاحبؒ نے پوچھا کیا تم نے اسے کپڑے کا عیب دکھایا تھا؟ اس نے کہا: جی مجھے تو یاد ہی نہیں رہا، امام صاحب نے پوچھا: وہ آدمی کس طرف کو گیا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ اس طرف کو گیاہے۔امام صاحبؒ نے اس کے دیے ہوئے سارے پیسے اٹھائے اور اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، امام صاحبؒ نے ایک بندے سے پوچھا کہ اس طرح کا بندہ آپ نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ادھر کو گیاہے، دوسرے سے پوچھا تو اس نے بھی اس کے جانے کی تصدیق کی، حتیٰ کہ چلتے چلتے شہر کے کنارے پہنچے، وہاں پانی کا ایک جوہڑ تھا، اس جوہڑ کے قریب وہ آدمی موجود تھا، امام صاحبؒ نے اس آدمی کو حقیقت حال سے آگاہ کیااور فرمایا کہ میرے ملازم نے آپ کو بتانا تھا کہ اس کپڑے میں عیب ہے مگر وہ بھول گیااور بتا نہ سکا، اب میں آپ کے پیسے لے کرآیا ہوں، اگر تم چاہو تو اپنے پیسے لے لو اور سودا ختم کر سکتے ہو اوراگر چاہو تو اس سودے کو قبول کر لو، تمہیں اختیار ہے، اس نے کہا: جی آپ مجھے پیسے دے دیں حضرت نے اس کو پیسے دے دیے تو اس نے لے کر وہ پیسے جوہڑ میں پھینک دیے،

حضرت بڑے حیران ہوئے اور پوچھا: یہ آپ نے کیاکیاہے؟ وہ کہنے لگا: اگر آپ کا مال عیب والاتھا تو میں بھی کھوٹے پیسے دے کر آ رہا تھا، لہٰذا اب میں آپ کو صحیح پیسے دیتاہوں، چنانچہ اس بندے نے حضرت کو اب صحیح پیسوں سے پیمنٹ کی۔ اللہ رب العزت نے سچ کے بدلے ان کو کھوٹے پیسوں سے بچالیا اور کھرے پیسے عطا کردئیے۔۔۔ سچ ہمیشہ نجات دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…