قطب الدین ایبک ایک دفعہ شکار کھیلتے ہوئے ایک کھیت سے گزرا۔ وہاں ایک کسان ہل چلاتا ہوا نظر آیا تو اس نے پوچھا، “تم دن میں کتنا کما لیتے ہو۔۔۔؟ کسان نے کہا، “حضور! چار روپے کما لیتا ہوں۔ قطب الدین ایبک نے پوچھا، “تم ان چار روپوں کو کس طرح خرچ کرتے ہو؟ کسان نے کہا، “پہلا روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، دوسرا روپیہ اُدھار دیتا ہوں، تیسرا روپیہ قرض اُتارنے میں صرف کرتا ہوں اور چوتھا روپیہ کُنویں میں
پھینک دیتا ہوں۔ قطب الدین ایبک نے حیران ہو کرکہا “میں تمہاری باتوں کا مطلب نہیں سمجھا۔ کسان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، “حضور! پہلا روپیہ خود پر اور اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہوں۔ دوسرا روپیہ بچّوں پر خرچ ہوتا ہے تاکہ جب میں بوڑھا ہو جاؤں تو وہ مجھے کھلا سکیں۔ تیسرا روپیہ اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں، کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا اور چوتھا روپیہ میں خیرات کرتا ہوں اور دنیا میں اس کا اجر نہیں چاہتا۔



















































